پاکستان کا آئین بہت اچھا ہے، تمام مسائل کا حل موجود ہے جامع ہے، اس کے باوجود کوئی جمہوری حکومت یہاں اپنا رنگ نہیں دکھا سکی
مصنف کی نظر میں جمہوریت
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 298
الطاف قمر سابق آئی جی پولیس
جمہوریت آمریت کے مقابلے میں بہت اچھا نظام ہے۔ پاکستان کا آئین بہت اچھا ہے۔ تمام مسائل کا حل موجود ہے جامع ہے۔ اس کے باوجود کوئی جمہوری حکومت یہاں اپنا رنگ نہیں دکھا سکی۔ ہر الیکشن میں دھاندلی اور کرپشن کے الزامات لگے۔ ہم جمہوری روح کیوں نہیں سربلند کر سکے؟ بطور پولیس افسر میں نے دیکھا ہے کہ حکمران خود جمہوریت دشمن ہیں۔ وہ صرف اقتدار کو طول دینے اور آئندہ کا راستہ ہموار کرنے میں لگے رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتے) کا دن کیسا رہے گا؟
حکومتی دباؤ کا مسئلہ
ایک وزیر اعلیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میری مخالف پارٹی کا کوئی آدمی دفتر کے پاس سے نہ گزرے۔ اگر کوئی ایسا کرے تو اسے کرش کر دو۔ ایک اور ضلع میں ایک سیاست دان جو بعد میں وزیر اعظم بنے، مجھے کہا کہ اتنی ایمانداری کی باتیں نہ کیا کریں۔ ایک کیئر ٹیکر حکومت میں چیف منسٹر اس ضلع کا تھا، جہاں میری پوسٹنگ تھی۔ کیئر ٹیکر خود الیکشن نہیں لڑ سکتا، انہوں نے اپنے بھائی کو کھڑا کیا۔ انہوں نے کوئی پریشر نہیں ڈالا۔ لہٰذا ان کا بھائی ہار گیا اور ڈی سی کو فون کیا کہ کچھ کرو۔ میرا بھائی جیت جائے۔ لیکن ڈی سی نے جواب دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: کبھی کپتانی کی خواہش نہیں کی اور نہ کپتانی مانگی، محمد رضوان کی میڈیا سے گفتگو
جمہوریت کی حقیقت
میجر جنرل (ر) راحت لطیف
67 سال کے بعد آج سوچا جا رہا ہے کہ جمہوریت کیا ہوتی ہے۔ یہ بات 1947ء سے سوچی جانی چاہیے تھی۔ اس وقت فوج وزیرستان میں آپریشن کر رہی ہے۔ فاٹا میں ایک لاکھ 87 ہزار متعین ہے، جنہیں وہاں سے نکالا نہیں جا سکتا۔ ائیر فورس بھی شامل ہے۔ ایک تہائی فوج مشرقی سرحد پر لگی ہوئی ہے، جہاں ہندوستان چھیڑ چھاڑ کر رہا ہے۔ یہ وقت دھرنوں اور تحریکوں کا ہرگز نہیں تھا۔ یہ تحریکیں چلا کر ملکی مفاد کو سخت نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حریم شاہ اور ہمایوں سعید کی پرانی ویڈیو وائرل
انتخابی مسائل
بنیادی جھگڑا اس الیکشن کے حوالے سے یہ تھا کہ الیکشن کا رزلٹ منظور ہے لیکن 4 حلقوں میں دوبارہ گنتی ہونی چاہیے۔ منہاج القرآن کے 14 شہید 80 زخمی ہوئے۔ عوام کو رشوت، سفارش، بے روزگاری، غربت اور محکمانہ مظالم درپیش ہیں۔ اس لیے احتجاجی تحریک کو تقویت ملی۔ سیاسی عدم استحکام حقیقی جمہوریت کی روح کے خلاف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز سے فیصل آباد ڈویژن کے ارکان صوبائی اسمبلی کی ملاقات
نمائندگی کا بحران
رانا امیر احمد خاں (صدر سٹیزن کونسل)
آج کے موضوع پر بہت تفصیلی اور خیال افروز باتیں کی گئی ہیں۔ موجودہ نظام انتخاب میں اکثریت کی نمائندگی نہیں ہوتی۔ 3 لاکھ ووٹوں کے حلقے میں ڈیڑھ لاکھ ووٹ پڑتے ہیں۔ اس میں صرف 60 ہزار کل ووٹوں کا 20 فیصد ووٹ لینے والا جیت جاتا ہے۔ باقی ہار جاتے ہیں۔ اس طرح اسمبلی اکثریتی ووٹوں کے اعتماد سے محروم ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارت کے حوالے سے مذاکرات، کیا نتیجہ نکلا؟ بڑی خبر آ گئی
متناسب نمائندگی کی ضرورت
موجودہ طریق انتخاب غیر جمہوری اور غیر منصفانہ ہے۔ اس لیے متناسب نمائندگی کے طریقۂ انتخاب کو اپنانے کی سخت ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین میں بھی چاقو حملہ، 8 افراد ہلاک
پاکستان کی سیاست کی صورتحال
پاکستان کی نام نہاد جمہوریت میں دھونس، زبردستی اور طاقت کے زور پر اپنی بات منوانے کا کلچر دن بدن زور پکڑتا جا رہا ہے۔ عدم برداشت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ اب جمہوری ایوانوں میں جمہوریت کے پردھان ایک دوسرے کو جوتیاں مارنے کی دھمکیاں دینے پر آ گئے ہیں۔ ہمارے غیر جمہوری رویوں اور طرز عمل کے باعث ہمارے معاشرے میں عدم برداشت اور تشدد بڑھتا جا رہا ہے۔
نفرت کی ثقافت
ہم روزمرہ کی بات چیت میں بھی اپنی بات کو غیرت و ناموس کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ صرف اپنی دلیل اور موقف کو درست اور حتمی سمجھنا، دوسرے کی رائے و نقطہ نظر کا ادراک اور احترام نہ کرنا، ہم نے اپنا وطیرہ بنا لیا ہے۔ پاکستان اور بھارت میں سیاست، کلچر اور مذہب میں جو تنگ نظری نظر آتی ہے اسے انتہا پسندی کہتے ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں 1980ء کے عشرہ سے دولت، دھونس اور غنڈہ گردی کا استعمال کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ جو جتنا دولتمند ہوتا جاتا ہے، طاقتور ہوتا جاتا ہے، پھر وہ سیاست میں قدم رکھتا ہے، اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر اپنی اور اپنا ساتھ دینے والوں کی تجوریاں بھرتا ہے۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








