یار! دل ہی کھٹا ہو گیا۔تبادلہ واپس کرا کر آ گیا ہوں،نہ دل نہ ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں، ہم نئے دفتر پہنچے، متعلقہ شعبہ میں فون کرایا اور  ٹیسٹ آسانی سے ہو گئے۔

مصنف: شہزاد احمد حمید

قسط: 430

کتنی خوبصورت نرس ہیں؟

بہاول پور میں ڈاکٹر شاہد سے ملاقات شیر عالم نیازی صاحب کی وساطت سے انہی کے گھر ہوئی تھی۔ وہ "بہاول وکٹوریہ ہسپتال" میں تعینات ہنس مکھ ڈاکٹر تھے۔ ایک روز مجھے اور عامر کو غیر ملکی تربیت کے لئے کچھ ٹیسٹ کرانے تھے، ہم وکٹوریہ ہسپتال چلے آئے۔ معلوم ہوا ڈاکٹر شاہد کا تبادلہ چند روز پہلے بطور ای ڈی او (ہیلتھ) بہاول پور ہو گیا ہے۔ ہم ان کے نئے دفتر پہنچے۔ متعلقہ شعبہ میں فون کرایا اور ہمارے ٹیسٹ آسانی سے ہو گئے۔

ڈاکٹر کا تبادلہ اور حیرت

چند دن بعد ان سے دوبارہ ملاقات چاہی تو کہنے لگے؛ "وکٹوریہ ہسپتال چلے آؤ۔" پوچھا؛ "سر! یہ چند دن پہلے تک پورے ضلع کے محکمہ صحت کے سب سے بڑے افسر تھے اچانک پھر سے آنے والی جگہ۔" جواب سن کر حیرت ہوئی اتنی حیرت کہ آنکھیں ابل آئیں۔ مسکراتے چہرے پر سنجیدگی آئی اور بولے؛ "یار! دو باتیں بتا دیتا ہوں۔ پہلی؛ نرس اپنے بی ایچ یو نہ جائے اور اسے طرح ڈاکٹر بھی نہ مقام تعیناتی پر نہ جائے۔ فکسڈ ماہانہ ریٹ تھا۔ (ایک ہزار روپے ماہانہ سے پانچ ہزار روپے تک۔) مجھے یہ سب منظور نہ تھا۔" دوستو یہ بھی حقیقت ہے۔ شاید بہت سے پڑھنے والے نہ یقین کریں۔ اس ملک میں سب ممکن تھا اور ہے۔ کیسے کیسے ناممکنات آپ کی نظر سے گزار چکا ہوں۔

ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ کا فون

دوسری؛ کچھ دن پہلے ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ کا فون آیا۔ جواب دیا؛ "میں کوئی۔۔۔ ہوں۔" یار! دل ہی کھٹا ہو گیا۔ تبادلہ واپس کرا کر "آنے والی جگہ" واپس آ گیا ہوں۔ نہ دل نہ ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں۔ میرے ملک کی افسر شاہی میں ایسے لوگ بھی ہیں۔

صبا صادق کی کہانی

ایسا ایک اور واقعہ بھی گوش گزار کرتا چلوں جس کا میں گواہ ہوں۔ صبا صادق کی سٹاف افسر خوبرو اور نوجوان حسینہ تھی، بن سنور کر دفتر آتی۔ نوکری کی ابتداء میں ہی اسے ایک یونیسف فنڈڈ پراجیکٹ کا ہیڈ بنا دیا تو ناز نخرے بھی بڑھ گئے۔ اس کے گرد گھیرا تنگ کیا تو اس نازنین نے میری وساطت سے صاحب کو اپنے ایک تربیتی پروگرام میں بطور مہمان خصوصی مدعو کرکے خود کو بچا لیا۔ وہ بعد میں سندھ حکومت میں چلے گئے تھے۔ یہ خاتون بھی آسمان سے گر کر کھجور میں اٹک گئی۔ پہلے محکمے کی اہم پوسٹوں پر رہی پھر گردش زمانہ کا شکار ہو گئی۔ کوویڈ 19 میں اپنی والدہ کے ساتھ خالق حقیقی سے جا ملی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

سولڈ ویسٹ منیجمنٹ کمپنی

بہاول پور میں "سولڈ ویسٹ منیجمنٹ کمپنی" قائم کی گئی جس کا ایم ڈی درد دل رکھنے والا ایک پاکستانی تھا۔ اس دور میں 15 ڈالر فی ٹن کے حساب سے یہ کمپنی کیچرا اٹھا رہی تھی۔ اس مقصد کے لئے ایک کمیٹی قائم ہوئی جس کے سربراہ سمیع اللہ چوہدری تھے (بعد میں یہ پی ٹی آئی میں چلے گئے اور وزیر خوراک بھی رہے۔ اچھے شریف انسان تھے) عامر نسیم بھی اس کمیٹی کا رکن تھا۔ عامر نے ایم ڈی سے پوچھا؛ "سر! اگر ہم سولڈ ویسٹ کا کام پوری طرح سے مشینری سے لیں تو فی ٹن کوڑا اٹھانے پر کتنی رقم خرچ آئے گی۔" انہوں نے جواب دیا؛ "25 امریکہ ڈالر"۔ میری ایک اور صداقت آپ کو حیران و پریشان کر دے گی کہ ترکی کی کمپنی فی ٹن کوڑا ٹھانے کی لاگت "100 ڈالر" بتائی تھی۔ ان کی پیشکش دباؤ کے باوجود رد کر دی گئی تھی۔ شنید تھی کہ اس میں "حصہ" 30 فیصد تھا۔ یہ ہے کردار اس ملک کو لوٹنے میں۔ (جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...