لاہور: آن لائن پتنگ فروشوں نے شہریوں کو لاکھوں روپے کا چونا لگا دیا
لاہور میں بسنت 2026: آن لائن فراڈ کا پہلا واقعہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور میں بسنت 2026 کا پہلا بڑا آن لائن فراڈ سامنے آگیا، پتنگ فروشوں نے شہریوں کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں میٹرو بس حادثے کا شکار
جعلی ویب سائٹس کا انکشاف
بسنت 2026 کی تقریبات کے آغاز کے ساتھ ہی لاہور میں آن لائن فراڈ کا پہلا بڑا واقعہ سامنے آ گیا۔ جعلی آن لائن پتنگ فروشوں نے سینکڑوں شہریوں کو لوٹ لیا۔ تقریباً دو دہائیوں بعد بسنت کی واپسی پر شہریوں میں زبردست جوش و خروش پایا جا رہا تھا۔ تاہم اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے متعدد جعلی ویب سائٹس نے لوگوں کو نشانہ بنایا۔ حالانکہ پنجاب حکومت کی زیرِ نگرانی محفوظ بسنت کی سرگرمیاں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی خلا باز جلد چینی اسپیس اسٹیشن پر جائیں گے
آن لائن خریداری کا بڑھتا ہوا رجحان
شہر کے مختلف علاقوں، خصوصاً موچی گیٹ اور دیگر روایتی بازاروں میں رش سے بچنے کے لیے متعدد شہریوں نے آن لائن خریداری کو ترجیح دی۔ اسی دوران Lahorekites.com سمیت کئی ویب پورٹلز میدان میں آئے جنہوں نے بروقت ڈیلیوری کے وعدے کر کے آرڈرز وصول کیے۔ بعد ازاں نہ تو سامان فراہم کیا گیا اور نہ ہی صارفین کو کوئی جواب دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں خام تیل اور گیس کی قیمت میں بڑا اضافہ
متاثرین کی کہانیاں
متاثرہ صارفین میں سے ایک شہری نے ڈیلی پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے بسنت سے ایک ہفتہ قبل ڈور خریدنے کے لیے 27 ہزار روپے آن لائن ادا کیے، جس کے اسکرین شاٹس بھی موجود ہیں، تاہم آرڈر کے بعد ویب سائٹ نے جواب دینا بند کر دیا۔ مذکورہ ویب سائٹ مبینہ طور پر Digi Pandaz Pakistan کے تحت چلائی جا رہی تھی جس کے مالک احمد سمیر چوہدری بتائے جاتے ہیں جو Akhzir Tech (Pvt) Ltd. کے سی ای او اور Digi Pandaz کے بانی بھی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ کیسے رکوائی؟ ٹرمپ نے سعودی عوام کو بھی بتا دیا
فراڈ کی نوعیت اور اثرات
ذرائع کے مطابق یہ صرف ایک کیس نہیں، بلکہ Digi Pandaz Pakistan پر الزام ہے کہ اس نے بھی سینکڑوں صارفین کو فراڈ کا نشانہ بنایا۔ متاثرہ افراد اب مطالبہ کر رہے ہیں کہ ذمہ داران کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ترقی یافتہ ممالک کی پیدا کردہ آلودگی کا خمیازہ غریب ممالک کیوں بھگتیں؟ شیری رحمان
قیمتوں میں اضافہ اور جعلی سرٹیفکیٹس
فراڈ تک ہی معاملہ محدود نہیں رہا، بلکہ بعض آن لائن پلیٹ فارمز نے بسنت کے جذبات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے من مانے دام بھی وصول کیے۔ جو پتنگ پہلے 500 روپے میں دستیاب تھی، وہ آن لائن 1,800 روپے فی پتنگ تک فروخت کی گئی۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ کچھ جعلی ویب سائٹس نے پتنگ اُڑانے کے سرٹیفکیٹس متعارف کرا کر اسکیم کو زیادہ منظم اور قابلِ اعتماد ظاہر کرنے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر آباد بیٹے کو بچانے کے لیے سیلابی ریلے میں کودنے والی ماں جاں بحق
حکومتی اقدامات اور خدشات
دوسری جانب پنجاب انتظامیہ نے پتنگ اور ڈور کی تھوک خرید و فروخت کو ریگولیٹ کرنے کے لیے QR کوڈ سسٹم متعارف کروایا، تاہم سوشل میڈیا صارفین اور ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ QR کوڈز کو آسانی سے کاپی کر کے جعلی پتنگوں پر چسپاں کیا جا سکتا ہے، جس سے اصل اور نقلی مصنوعات میں فرق کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔
شہریوں کے مطالبات
لاہور میں بڑی تعداد میں پتنگ سازوں کی موجودگی کے باعث رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ فروشوں کی نشاندہی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ان فراڈز کی وجہ سے نہ صرف عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں بلکہ رجسٹرڈ پتنگ فروشوں کی ساکھ بھی داؤ پر لگ گئی ہے۔
شہریوں نے لاہور پولیس اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ آن لائن فراڈ میں ملوث عناصر کے خلاف فوری تحقیقات کی جائیں اور بسنت کے موقع پر عوام کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔







