بیٹے پر مبینہ پولیس تشدد اور رشوت کا مطالبہ، والد ٹرین کے سامنے کود گیا
میرانوالی میں نامعلوم قتل کا مقدمہ
میانوالی (ڈیلی پاکستان آن لائن) میانوالی میں نامعلوم قتل کے مقدمے میں 15 سالہ بیٹے کی بار بار گرفتاری، مبینہ پولیس تشدد اور رشوت کے مطالبے سے تنگ آکر والد ٹرین کے سامنے کود گیا۔
یہ بھی پڑھیں: خیرپور: دکان سے خریدا گیا دودھ پینے کے بعد خاتون اور 3 بچے جاں بحق
والد کی ذہنی حالت
تفصیلات کے مطابق میانوالی میں نامعلوم قتل کے مقدمے میں 15 سالہ لڑکے کو بار بار حوالات میں بے گناہ بند کرکے تشدد کرنے پر نوجوان کے والد نے ٹرین کے آگے آکر خودکشی کرنے کی کوشش کی، لیکن خوش قسمتی سے جان تو بچ گئی لیکن ٹانگ ٹوٹ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کا حل عسکری نہیں سیاسی ہے، مصنوعی قیادت مخدوش صورتحال کے بنفیشری ہے اس لئے وہ سیاسی حل کے بجائے عسکری حل کے قائل ہے، حافظ حمداللہ
پولیس کی کارروائیاں
میانوالی کے تھانہ موچھ کا ایس ایچ او ساجد بار بار 15 سالہ بچے کو گرفتار کرلیتا تھا اور تشدد کرتا تھا۔ اس سے پہلے بھی اس لڑکے کو پولیس نے گرفتار کیا تھا اور پھر قتل کے جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کی دھمکی دیکر بچے کے والدین سے لاکھوں روپے لیئے اور چھوڑ دیا۔ اب پولیس دوبارہ گرفتار کر کے رشوت کا مطالبہ کررہی تھی جسکی وجہ سے بچے کے والد نے ٹرین کے سامنے کود کر خودکشی کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں: بزدلی دیکھنی ہے۔۔۔؟ ”بے غیرت“ تعداد میں بڑھے یا کم ہوئے ؟کون کرے گا یہ سروے، ہے کسی میں ہمت ۔۔؟
سوشل میڈیا کی ری ایکشن
میانوالی میں نامعلوم قتل کے مقدمے میں 15 سالہ لڑکے کو بار بار حوالات میں بے گناہ بند کرکے تشدد کرنے پر نوجوان کے والد نے ٹرین کے آگے آکر خودکشی کرلی جسکی وجہ سے اسکی ٹانگ ٹوٹ گئی
میانوالی کے تھانہ موچھ کا ایس ایچ او ساجد بار بار 15 سالہ بچے کو گرفتار کرلیتا تھا اور تشدد کرتا تھا… pic.twitter.com/ClTmLCYlhd— صحرانورد (@Aadiiroy2) February 5, 2026
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ سے بھی بی ایل اے اور مجید بریگیڈ پر پابندی لگوائیں گے: بلاول بھٹو
قتل کیس کا پس منظر
عماد نامی شخص کے قتل کیس میں 15 سالہ شاکر نامی بچے کو ناحق حوالات میں رکھا گیا۔ پہلے اس تھانے میں جمیل نامی ایس ایچ او تھا۔ تھانے کے سابقہ ڈی ایف سی آصف نے 50 ہزار لے کر جمیل ایس ایچ او سے لڑکا چھڑوا کر دیا۔
سابقہ اور حالیہ صورتحال
پھر کچھ عرصے بعد ساجد نامی نیا ایس ایچ او تعینات ہوگیا۔ تو اس نے بھی بچے کو پکڑ لیا۔ پولیس بھی بار بار تفتیش میں کہتی رہی کہ بچہ بے گناہ ہے لیکن آپ پیسے دیں۔ ایس ایچ او جمیل اور ساجد کی ڈیل چلتی رہی بالاخر آج تنگ ہو کر لڑکے کے والد نے ٹرین کے آگے چھلانگ لگا دی۔








