بیٹے پر مبینہ پولیس تشدد اور رشوت کا مطالبہ، والد ٹرین کے سامنے کود گیا
میرانوالی میں نامعلوم قتل کا مقدمہ
میانوالی (ڈیلی پاکستان آن لائن) میانوالی میں نامعلوم قتل کے مقدمے میں 15 سالہ بیٹے کی بار بار گرفتاری، مبینہ پولیس تشدد اور رشوت کے مطالبے سے تنگ آکر والد ٹرین کے سامنے کود گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی 20 ورلڈ کپ سے متعلق معاملے میں پاکستان کو بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، رانا ثنا اللہ
والد کی ذہنی حالت
تفصیلات کے مطابق میانوالی میں نامعلوم قتل کے مقدمے میں 15 سالہ لڑکے کو بار بار حوالات میں بے گناہ بند کرکے تشدد کرنے پر نوجوان کے والد نے ٹرین کے آگے آکر خودکشی کرنے کی کوشش کی، لیکن خوش قسمتی سے جان تو بچ گئی لیکن ٹانگ ٹوٹ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بیوی کے ریپ کے مقدمے میں 50 ملزمان کی پیشی: ‘ہم روزانہ جنسی تعلق رکھتے تھے، میرے ساتھی کو اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟’
پولیس کی کارروائیاں
میانوالی کے تھانہ موچھ کا ایس ایچ او ساجد بار بار 15 سالہ بچے کو گرفتار کرلیتا تھا اور تشدد کرتا تھا۔ اس سے پہلے بھی اس لڑکے کو پولیس نے گرفتار کیا تھا اور پھر قتل کے جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کی دھمکی دیکر بچے کے والدین سے لاکھوں روپے لیئے اور چھوڑ دیا۔ اب پولیس دوبارہ گرفتار کر کے رشوت کا مطالبہ کررہی تھی جسکی وجہ سے بچے کے والد نے ٹرین کے سامنے کود کر خودکشی کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں: 2019 میں بھارتی پائلٹ کو چائے پلائی، اب ایسا کچھ ہوا تو بھرپور جواب دینگے: وزیر اطلاعات
سوشل میڈیا کی ری ایکشن
میانوالی میں نامعلوم قتل کے مقدمے میں 15 سالہ لڑکے کو بار بار حوالات میں بے گناہ بند کرکے تشدد کرنے پر نوجوان کے والد نے ٹرین کے آگے آکر خودکشی کرلی جسکی وجہ سے اسکی ٹانگ ٹوٹ گئی
میانوالی کے تھانہ موچھ کا ایس ایچ او ساجد بار بار 15 سالہ بچے کو گرفتار کرلیتا تھا اور تشدد کرتا تھا… pic.twitter.com/ClTmLCYlhd— صحرانورد (@Aadiiroy2) February 5, 2026
یہ بھی پڑھیں: سکول کے سامنے کُشادہ گراؤنڈ تھا، پرائمری کلاسوں میں میری تعلیمی حالت کیا تھی، ذہن سے محو ہو چکی بس اِتنا یاد ہے کبھی فیل ہونے کی نوبت نہیں آئی۔
قتل کیس کا پس منظر
عماد نامی شخص کے قتل کیس میں 15 سالہ شاکر نامی بچے کو ناحق حوالات میں رکھا گیا۔ پہلے اس تھانے میں جمیل نامی ایس ایچ او تھا۔ تھانے کے سابقہ ڈی ایف سی آصف نے 50 ہزار لے کر جمیل ایس ایچ او سے لڑکا چھڑوا کر دیا۔
سابقہ اور حالیہ صورتحال
پھر کچھ عرصے بعد ساجد نامی نیا ایس ایچ او تعینات ہوگیا۔ تو اس نے بھی بچے کو پکڑ لیا۔ پولیس بھی بار بار تفتیش میں کہتی رہی کہ بچہ بے گناہ ہے لیکن آپ پیسے دیں۔ ایس ایچ او جمیل اور ساجد کی ڈیل چلتی رہی بالاخر آج تنگ ہو کر لڑکے کے والد نے ٹرین کے آگے چھلانگ لگا دی۔








