ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: پاکستان کا بھارت سے کھیلنے سے انکار، بھارتی کپتان کا ردعمل سامنے آگیا
بھارتی کپتان کا ردعمل
کولکتہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان کے بھارت سے کھیلنے سے انکار پر بھارتی ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادیو کا ردعمل سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بسنت، موچی گیٹ اندرون لاہور میں قدیم حویلی کی چھت کاریٹ 1 کروڑ لگ گیا
پاکستان کا فیصلہ
قومی ٹیم حکومت پاکستان کے فیصلے کی بنیاد پر آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں 15 فروری کو بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلے گی، جس پر بھارت کے کپتان سوریا کمار یادیو نے اپنی آواز اٹھائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکپتن؛ عدالت کا تحریک انصاف کے کارکنان کی رہائی کا حکم
کپتان کی میڈیا بریفنگ
آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل ممبئی میں ٹیموں کے کپتانوں کی میڈیا بریفنگ کے دوران سوریا کمار یادیو نے کہا کہ میچ ہو یا نہ ہو، بھارتی ٹیم کولمبو ضرور جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ کھیلنے سے انکار نہیں کیا، بلکہ انکار ان کی جانب سے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سموگ کی صورتحال میں بہتری کے باوجود لاہور ملک کا آلودہ ترین شہر
نیٹورل وینیو پر کھیلنے کا فیصلہ
بھارتی کپتان نے فرمایا کہ آئی سی سی نے شیڈول تیار کیا، اور پھر بی سی سی آئی اور بھارتی حکومت نے آئی سی سی کے ساتھ مشاورت سے نیوٹرل وینیو پر کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کولمبو کے لیے ان کی فلائٹ بک ہے اور وہ وہاں جائیں گے، اور آگے کیا ہوگا، وہ بعد میں دیکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی نوجوان فصلوں کی بہتر پیداوار کے لیے چین میں کاشتکاری کی مہارتیں سیکھنے میں مشغول
پاکستان کے خلاف میچ کی تیاری
پاکستان کے خلاف میچ کے حوالے سے ٹیم کے ماحول پر بات کرتے ہوئے سوریا کمار نے کہا کہ ٹیم کی پلاننگ مکمل طور پر واضح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے 7 فروری کو میچ ہے، پھر 12 فروری کو نمیبیا کے ساتھ کھیلنا ہے، اور اس کے بعد کولمبو روانگی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلامک سولیڈیرٹی گیمز 2025 سے وطن واپسی پر اتھلیٹس ارشد ندیم اور یاسر سلطان کا ایئرپورٹ پر لیسکو کی جانب سے والہانہ استقبال
موجودہ صورتحال پر تبصرہ
سوریا کمار نے موجودہ صورتحال پر کہا کہ یہ فیصلہ ان کے اختیار میں نہیں ہے، اور اگر انہیں 15 فروری کو کھیلنے کے لیے کہا گیا تو وہ ضرور کھیلیں گے۔
گزشتہ تجربات
واضح رہے کہ گزشتہ سال ایشیا کپ کے دوران بھی بھارت اور پاکستان کے درمیان سیاسی تناؤ نے کھیل پر اثر انداز ہوا تھا۔ اس وقت بھارتی حکومت کی ہدایت پر بھارتی ٹیم نے پاکستان ٹیم سے ملاقات سے گریز کیا، جبکہ بھارت نے ایشیا کپ جیتنے کے باوجود اے سی سی صدر اور پی سی بی چیئرمین محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہیں کی تھی۔








