بچوں کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا، میاں بیوی کے جھگڑے کو ماں باپ کی لڑائی میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے، عدالت کے کیس میں اہم ریمارکس

اسلام آباد میں میاں بیوی کی لڑائی کا مقدمہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) میاں بیوی کی لڑائی اور بچوں کی حوالگی کے کیس میں جسٹس محسن اختر کیانی نے اہم ریمارکس دیئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سکول لے جانے اور لانے والے رکشہ ڈرائیور کی طالبہ سے 4 ماہ تک زیادتی، شرمناک تفصیلات سامنے آگئیں۔

کیس کی سماعت

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں میاں بیوی کی لڑائی اور بچوں کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں جسٹس محسن اختر کیانی نے خاتون شہری کی جانب سے بچوں کی حوالگی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی۔ میاں بیوی اپنے وکلا کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور آذربائیجان نے 2 ارب ڈالرز کے سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط کر دیئے

عدالت کی ہدایت

دوران سماعت عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر تمام بچوں کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان کا فیض پور کلاں شرقپور اور چوہنگ میں سیلاب متاثرین کیمپس کا دورہ

جج کے ریمارکس

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ بچوں کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا اور میاں بیوی میں جھگڑے ہوتے ہیں لیکن ان کو ماں باپ کی لڑائی میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: مفت 2 جی بی انٹرنیٹ اور 200 منٹس حاصل کرنے کا طریقہ جانئے

خواتین کے حقوق

سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ گھر بیوی کے نام کرانا کوئی بڑی بات نہیں ، ان کی اپنی جائیداد بھی ان کی اہلیہ کے نام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جج اور وکیل میاں بیوی اور بچوں کے دشمن ہیں، میاں بیوی خود جو معاملہ حل کر سکتے ہیں وہ جج اور وکیل نہیں کر سکتے۔

یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت نے بچوں کی شادی کی ممانعت کے بل پر دستخط کر دیئے

بچوں کی صورتحال

عدالت کے استفسار پر وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ ساڑھے 12 سے ساڑھے 4 سال کی عمر کے 4 بچے ہیں، جن میں 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں شامل ہیں۔ ایک چھوٹا بیٹا خاتون کے پاس ہے جب کہ 3 بچے خاوند کے پاس ہیں۔ عدالت نے پوچھا کہ کیا میاں بیوی میں علیحدگی ہو چکی ہے، جس پر دونوں نے عدالت میں بیان دیا کہ نہ علیحدگی ہوئی ہے اور نہ وہ علیحدگی چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ملک کے مختلف علاقوں میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

ماضی کے مسائل

عدالت کے اس سوال پر کہ پھر مسئلہ کیا ہے کہ 4 سال سے الگ رہ رہے ہیں، خاوند نے بیان دیا کہ وہ نہ علیحدگی چاہتا ہے اور نہ دوسری شادی کی ہے، بیوی گھر اپنے نام کرانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: روس جانے والے آئل ٹینکر پر ڈرون حملہ

معاملات کا حل

جسٹس محسن اختر کیانی نے میاں بیوی کو ہدایت کی کہ وہ عرصہ سے عدالتوں میں دھکے کھا رہے ہیں، اس لیے دونوں بیٹھ کر معاملہ حل کریں، ایک دوسرے کو معاف کرنا اور معافی مانگنا سیکھیں۔ اگر ایک کو غصہ آئے تو دوسرے کو خاموش رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہر خاتون گھر میں سخت ہوتی ہے۔ عورت کا حوصلہ ہوتا ہے کہ وہ ماں باپ کو چھوڑ کر خاوند کے ساتھ رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سائنسدانوں نے 10 ہزار سال پہلے معدوم ہوجانے والے 3 بھیڑیے پیدا کرلیے

بچوں کی تربیت

عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ اب بچوں کی تربیت کا وقت ہے، چند سالوں میں بچے بڑے ہو جائیں گے تو دونوں سے نفرت کریں گے۔ اس وقت اگر صلح بھی کریں گے تو وہ کام نہیں آئے گی۔ عدالتی استفسار پر دونوں میاں بیوی ایک دوسرے سے معافی مانگنے پر تیار ہو گئے، جس پر عدالت نے دونوں کو کمرہ عدالت میں ساتھ بیٹھنے کی ہدایت کی۔

مقدمے کی آئندہ سماعت

عدالت نے میاں بیوی کو ہدایت دی کہ آئندہ سماعت پر چاروں بچوں کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ بعد ازاں کیس کی سماعت آئندہ جمعہ تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...