بچوں کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا، میاں بیوی کے جھگڑے کو ماں باپ کی لڑائی میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے، عدالت کے کیس میں اہم ریمارکس
اسلام آباد میں میاں بیوی کی لڑائی کا مقدمہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) میاں بیوی کی لڑائی اور بچوں کی حوالگی کے کیس میں جسٹس محسن اختر کیانی نے اہم ریمارکس دیئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاک فوج نے قندھار ایئر فیلڈ آئل سٹوریج سائٹس کو تباہ کر دیا: سیکیورٹی ذرائع
کیس کی سماعت
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں میاں بیوی کی لڑائی اور بچوں کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں جسٹس محسن اختر کیانی نے خاتون شہری کی جانب سے بچوں کی حوالگی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی۔ میاں بیوی اپنے وکلا کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کی پاکستانی کیوئسٹ محمد آصف کو ورلڈ سنوکر چیمپئن شپ ماسٹر کیٹیگری کا ٹائٹل جیتنے پر مبارکباد
عدالت کی ہدایت
دوران سماعت عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر تمام بچوں کو عدالت میں پیش کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ویوو اور PTDC کا اشتراک، پاکستان کی سیاحت کو دنیا بھر میں متعارف کروانے کا عزم
جج کے ریمارکس
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ بچوں کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا اور میاں بیوی میں جھگڑے ہوتے ہیں لیکن ان کو ماں باپ کی لڑائی میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: 5ویں بار عدالتی حکم کے باوجود مجھے میرے قائد سے نہیں ملنے دیا گیا، کچھ لوگ اداروں سے زیادہ طاقتور ہوچکے ہیں، سہیل آفریدی
خواتین کے حقوق
سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ گھر بیوی کے نام کرانا کوئی بڑی بات نہیں ، ان کی اپنی جائیداد بھی ان کی اہلیہ کے نام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جج اور وکیل میاں بیوی اور بچوں کے دشمن ہیں، میاں بیوی خود جو معاملہ حل کر سکتے ہیں وہ جج اور وکیل نہیں کر سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور افغانستان میں آئندہ ہفتے زلزلے کا امکان، شدت 5.4 ہو سکتی ہے: شہباز لغاری
بچوں کی صورتحال
عدالت کے استفسار پر وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ ساڑھے 12 سے ساڑھے 4 سال کی عمر کے 4 بچے ہیں، جن میں 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں شامل ہیں۔ ایک چھوٹا بیٹا خاتون کے پاس ہے جب کہ 3 بچے خاوند کے پاس ہیں۔ عدالت نے پوچھا کہ کیا میاں بیوی میں علیحدگی ہو چکی ہے، جس پر دونوں نے عدالت میں بیان دیا کہ نہ علیحدگی ہوئی ہے اور نہ وہ علیحدگی چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مشرقی وسطیٰ کی صورتحال: افغانستان اور سری لنکا کی سیریز ملتوی
ماضی کے مسائل
عدالت کے اس سوال پر کہ پھر مسئلہ کیا ہے کہ 4 سال سے الگ رہ رہے ہیں، خاوند نے بیان دیا کہ وہ نہ علیحدگی چاہتا ہے اور نہ دوسری شادی کی ہے، بیوی گھر اپنے نام کرانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایتھوپیا وزٹ ویزے کی آڑ میں غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش ناکام، 3 مسافر گرفتار
معاملات کا حل
جسٹس محسن اختر کیانی نے میاں بیوی کو ہدایت کی کہ وہ عرصہ سے عدالتوں میں دھکے کھا رہے ہیں، اس لیے دونوں بیٹھ کر معاملہ حل کریں، ایک دوسرے کو معاف کرنا اور معافی مانگنا سیکھیں۔ اگر ایک کو غصہ آئے تو دوسرے کو خاموش رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہر خاتون گھر میں سخت ہوتی ہے۔ عورت کا حوصلہ ہوتا ہے کہ وہ ماں باپ کو چھوڑ کر خاوند کے ساتھ رہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (منگل) کا دن کیسا رہے گا؟
بچوں کی تربیت
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ اب بچوں کی تربیت کا وقت ہے، چند سالوں میں بچے بڑے ہو جائیں گے تو دونوں سے نفرت کریں گے۔ اس وقت اگر صلح بھی کریں گے تو وہ کام نہیں آئے گی۔ عدالتی استفسار پر دونوں میاں بیوی ایک دوسرے سے معافی مانگنے پر تیار ہو گئے، جس پر عدالت نے دونوں کو کمرہ عدالت میں ساتھ بیٹھنے کی ہدایت کی۔
مقدمے کی آئندہ سماعت
عدالت نے میاں بیوی کو ہدایت دی کہ آئندہ سماعت پر چاروں بچوں کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ بعد ازاں کیس کی سماعت آئندہ جمعہ تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔








