ازبکستان کا پاکستانی تاجروں کو 10 سال کیلئے ٹیکس استثنیٰ دینے کا اعلان
ازبکستان کے صدر کا پاکستان دورہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کے دو روزہ دورے پر آئے ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے پاکستانی تاجروں کو 10 سال کے لیے ٹیکس استثنیٰ دینے کا اعلان کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ملکی سالمیت، سکیورٹی اور شہریوں کے تحفظ میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا: فیلڈ مارشل
پاکستان ازبکستان بزنس فورم
پاکستان اور ازبکستان کے تجارتی حجم میں اضافے اور دونوں ممالک کے مابین کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے حوالے سے پاکستان ازبکستان بزنس فورم کا انعقاد اسلام آباد میں ہوا جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ازبکستان شوکت مرزائیوف نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: 24 گھنٹے میں 63970 گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے چالان، جرمانوں کی رقم کتنی بنی؟ جان کر آپ کے ہوش ٹھکانے آ جائیں
شوکت مرزائیوف کا خطاب
ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے بھائی وزیراعظم شہبازشریف کی قائدانہ صلاحیتوں کا معترف ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تعلقات کثیرالجہتی شکل اختیار کر چکے ہیں، اور بزنس فورم میں معاہدوں پر عملدرآمد سے باہمی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں بن گئی پیرس سٹریٹ، دیکھ کر یقین نہ آئے کہ یہ بھی کراچی کا حصہ ہے
تعاون کی نئی راہیں
ازبک صدر نے کہا کہ ازبک حکومت اور عوام پاکستان سے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کے سرمایہ کار اور تاجر ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ بزنس فورم اور دورے سے دونوں ممالک میں تجارتی تعاون کو وسعت ملے گی۔
یہ بھی پڑھیں: یوکرین کے صدر زیلنسکی نے روس سے جنگ کے خاتمے پر ’’بڑی پیشکش‘‘ کردی۔
صحت اور ٹیکسٹائل میں تعاون
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آلات جراحی، ادویات کی تیاری میں تعاون فراہم کریں گے، اور ٹیکسٹائل میں پاکستانی سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ازبکستان میں کاروباری سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول دستیاب ہے۔
10 سال کا ٹیکس استثنا
ازبک صدر نے کہا کہ چین، کرغزستان اور ازبکستان پر این ایل سی سے تجارتی سرگرمیاں قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے پاکستانی تاجروں کو 10 سال کے لیے ٹیکس سے استثنیٰ دیا جانے کا اعلان کیا اور صحت کے شعبے میں بھرپور تعاون کے لیے تیار ہونے کی بات کی۔ 2026 باہمی تعاون پر مبنی شراکت داری کے فروغ کا سال ہوگا۔








