پشاور ہائی کورٹ نے خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2017 میں کی جانے والی ترمیم کالعدم قرار دے دی

خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2017 میں ترمیم کالعدم

پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) صوبائی حکومت کی جانب سے 2024 میں خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2017 میں کی جانے والی ترمیم کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں فری سولر پینل پراجیکٹ کیلئے 4ارب روپے جاری

پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ

پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے 28 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا۔ فیصلے میں تحریر کیا گیا کہ گریڈ 18 اور اس سے اوپر کے پولیس افسران کی تقرریاں وزیراعلیٰ کی منظوری سے مشروط کرنا غیر آئینی ہے جبکہ انسپکٹر جنرل پولیس سے فیلڈ کمانڈرز کی تقرری کا قانونی اختیار واپس لینا بھی غیر قانونی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بنگلہ دیش کو جیت کیلئے ہدف دے دیا

پولیس کی خودمختاری

فیصلے کے مطابق یہ ترامیم پولیس کی عملی خودمختاری کو ختم کر کے اسے سیاسی بناتی ہیں۔ آئینی نظام کے تحت انتظامیہ کی نگرانی صرف پالیسی رہنمائی تک محدود ہونی چاہیے۔ روزمرہ انتظامیہ، تبادلے اور تعیناتیاں صرف آئی جی پولیس کے پاس ہونے سے کمانڈ برقرار رہتی ہے۔

عدالت کی وضاحت

عدالت نے قرار دیا کہ انسپکٹر جنرل پولیس کو بائی پاس کرکے فیلڈ کمانڈرز پر کنٹرول کمانڈ اسٹرکچر کو توڑ دیتا ہے۔ قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری آئی جی پولیس پر ہے اور وہ صرف قانون کے سامنے جواب دہ ہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...