امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں،طلال چودھری
اسلام آباد دھماکے کی تفصیلات
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیرمملکت داخلہ طلال چودھری کا کہنا ہے امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔ اس حملے کو کرنے والے بھی ہمارے ہمسائیوں کے اسپنسرڈ ہیں، یہ واقعہ ایک بج کر 42 منٹ پر اسلام آباد انتظامیہ کے نوٹس میں آیا اور اب تک کی اکٹھی کی گئیں معلومات کے مطابق 31 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صدر آصف زرداری اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ کل سے بحرین کا سرکاری دورہ کریں گے
ایمرجنسی کی صورتحال
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، وزیراعظم اور وزیرداخلہ کے حکم پر میں پمز اسپتال میں موجود رہا۔ جس دہشت گرد نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، وہ افغانستان کا شہری تو نہیں لیکن کتنی بار اس نے افغانستان کا سفر کیا ہے اس کی تفصیل آ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے حوالے سے او آئی سی وزرائے خارجہ کا اجلاس دو دن بعد شروع ہوگا
دہشت گردی کا پس منظر
وزیرمملکت داخلہ نے دعویٰ کیا کہ یہ بی ایل اے کی دہشت گردی ہے، یہ دہشت گرد بزدلی کی آخری حدوں کو چھو گئے ہیں، یہ سافٹ ٹارگٹس پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کی عمل درآمد جاری ہے، اس میں کوئی نرمی کا ابہام نہیں ہے، وزیرداخلہ نے امام بارگاہ کا دورہ کیا ہے اور تمام تفصیلات حاصل کرلی ہیں۔ یہ جنگ ہم جیتنے کے لیے لڑ رہے ہیں اور جیت رہے ہیں، جو لوگ اللہ کے حضور نماز پڑھ رہے تھے مذہب کے نام پر انہیں کیسے شہید کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی اسٹاک مارکیٹ میں عید الاضحیٰ پر 6 چھٹیوں کا اعلان
بھارتی کردار کی نشاندہی
انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت بار بتایا ہے کہ یہ ہندوستان کے اسپانسرڈ ہیں، بھارت نے تین گناہ انوسمنٹ بڑھائی ہے، یہ لوگ ڈالرز کے لیے دہشت گردی کر رہے ہیں۔ افغانستان کو ہم نے بہت بار بتایا ہے کہ آپ ہمسائے ہیں آپ پر ہمارے بہت احسانات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی اجلاس: بھارت کے بزدلانہ حملوں میں شہید پاکستانیوں کیلئے دعائے مغفرت
حملا آور کی تلاش میں پیشرفت
وزیرمملکت داخلہ نے بتایا کہ آئی جی اسلام آباد کے کزن شہید ہوئے ہیں اس کے باوجود وہ وردی پہن کر یہاں موجود ہیں، ابھی وزیرداخلہ نے یہاں امام بارگاہ میں نماز بھی پڑھی ہے۔
تحقیقات کا جاری عمل
حملہ آور کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ابھی ان کے پچھلوں تک پہنچا جا رہا ہے اور ہو سکتا ہے 72 گھنٹے کے اندر اندر ہم اس کو انجام تک پہنچا دیں۔ اب کوئی بھی افغان شہری غیرقانونی طور پر پاکستان میں نہیں رہے گا۔








