خودکش حملہ محض ایک سانحہ نہیں بلکہ ریاستی نظم و نسق، حفاظتی حکمتِ عملی اور سیکیورٹی ترجیحات پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہے، شیر افضل مروت
دھماکے کی تفصیلات
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) رکن اسمبلی شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ ترلائی میں امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ میں ہونے والا دھماکا ایک نہایت افسوسناک، دل دہلا دینے والا اور انسانیت سوز واقعہ ہے۔ اس بزدلانہ حملے نے نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کو ہم سے چھین لیا بلکہ درجنوں خاندانوں کو غم اور کرب میں مبتلا کر دیا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی تعداد 74 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ زخمیوں کی بڑی تعداد زیرِ علاج ہے۔ ہم شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان پر قرض اور ادائیگیوں کا بوجھ 89 ہزار 834 ارب تک پہنچ گیا
مسئلہ کی گہرائی
اپنے ایکس بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک سانحہ نہیں بلکہ ریاستی نظم و نسق، حفاظتی حکمتِ عملی اور سیکیورٹی ترجیحات پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہے۔ تین ماہ کے اندر دارالحکومت میں یہ دوسرا تباہ کن حملہ ہے۔ اسلام آباد، جسے محفوظ ترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے؛ جہاں سیف سٹی کیمرے، جدید نگرانی کا نظام، باوسائل پولیس، اور انٹیلی جنس اداروں کی موجودگی کے دعوے بارہا کیے جاتے ہیں — آج اسی شہر کی گلیاں بے گناہوں کے خون سے رنگی ہوئی ہیں۔ یہ صورتحال اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کی غلطی، پیشہ ورانہ کمزوری، اور کارکردگی کی ناکامی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مراکز صحت کی ری ویمپنگ کیلیے 31دسمبر کی ڈیڈ لائن مقرر، بوسیدہ عمارتیں چمچماتے کلینکس میں تبدیل ہونگی:مریم نواز
سیکیورٹی کے سوالات
سب سے تکلیف دہ اور ناقابلِ فہم پہلو یہ ہے کہ جمعہ کے روز امام بارگاہ میں عبادت کے لیے بڑی تعداد میں موجود اجتماع آخر کس طرح اسلام آباد پولیس کی مؤثر نگرانی اور سیکیورٹی کے بغیر رہ گیا؟
- کیا اس اجتماع کی پیشگی اطلاع نہ تھی؟
- کیا ایسے مذہبی مقامات اور اجتماعات کے لیے کوئی سیکیورٹی پروٹوکول موجود نہیں؟
- اگر موجود تھا تو اس پر عمل کیوں نہ ہوا؟
- اور اگر عمل ہوا تو یہ اندوہناک ناکامی کیسے رونما ہوئی؟
ریاست کی ذمہ داری
انہوں نے کہا جب ریاستی مشینری اپنی بنیادی ذمہ داری یعنی شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہو جائے، تو رسمی مذمتیں اور روایتی بیانات قوم کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتے۔ قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ وہ کون سی غفلتیں تھیں جنہوں نے دہشت گردوں کو یہ موقع دیا کہ وہ دارالحکومت کے قلب میں ایسی خونریزی کر سکیں۔
اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ میں ہونے والا دھماکہ ایک نہایت افسوسناک، دل دہلا دینے والا اور انسانیت سوز واقعہ ہے۔ اس بزدلانہ حملے نے نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کو ہم سے چھین لیا بلکہ درجنوں خاندانوں کو غم اور کرب میں مبتلا کر دیا ہے۔ تازہ اطلاعات کے…
— Sher Afzal Khan Marwat (@sherafzalmarwat) February 6, 2026








