سب کو ہوسٹل سے نکال دیا گیا، ایک ”وڈیرہ“ ڈٹا رہا،گارنٹی دیتے ہیں لڑکے شرارت نہیں کریں گے، امن سے رہیں گے، موت کا سا سکوت ہوتا تھا
معاملات کا آغاز
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط:50
ایسا سنگین واقعہ ہو اور پرنسپل احمد مختار! جناب فوراً چھ ایک طرف کے اور چھ دوسری پارٹی سے لڑکوں کو ہوسٹل اور کالج سے بے دخل کردیا۔ صرف یہ کہا کہ آپ کسی اور کالج میں نقل مکانی کرسکتے ہیں۔ ان 12میں خود خادم کا نام ان لڑکوں میں تھا کہ خادم دوسری پارٹی کا بنام ”اُستاد“ سربراہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ میں منشیات کے خلاف کریک ڈاؤن، معروف اداکارہ ہانڈے ارچل سمیت شوبز، اسپورٹس اور کاروباری حلقوں سے تعلق رکھنے والی متعدد اہم شخصیات کو حراست میں لے لیا گیا
ہوسٹل سے بے دخل ہونا
سب کو ہوسٹل سے نکال دیا گیا۔ لیکن ایک ”وڈیرہ شیخو خان“ وہیں ڈٹا رہا۔ جب پرنسپل کا حکم آتا کہ ہوسٹل چھوڑ دو تو کہتے کہ آگے انتظام ہوگا تو جاؤں گا۔ چنانچہ کوئی 20 دن کے بعد وہ ”مجیٹھ“ ہال میں شفٹ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج نے پہلی مرتبہ پاکستان کے ساتھ جنگ کے دوران لڑاکا طیاروں کی تباہی کا اعتراف کرلیا
نئی جگہ کی تلاش
اب وہاں خادم کو گھر تو کیا جانا تھا وہاں تو سر پر جوتوں کی برسات ہوتی، سیدھا لاہور اپنے ایک دُور کے رشتہ دار ماسٹر عبد الغفور کے ہاں جا ٹھہرا۔ وہاں سے اُس کو ساتھ لیا اور اسلامیہ کالج سول لائن میں داخلہ کی کوشش کی لیکن کامیابی نہ ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا ضلع کچہری اسلام آباد میں خودکش دھماکے پر پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی
زمینداروں کی مداخلت
پریشانی کی حالت واپس آیا تو پتہ چلا کہ علاقہ کے زمیندار وڈیرے کالج میں پرنسپل احمد مختار سے آکر ملے اور منت سماجت کی کہ اگر آپ آرڈر واپس لے لیں تو ہم گارنٹی دیتے ہیں کہ لڑکے کبھی کوئی شرارت نہیں کریں گے۔ امن سے رہیں گے۔ چنانچہ پرنسپل صاحب نے آرڈر واپس لے لیے اور ہمارے 6 لڑکوں کو مین ہوسٹل اور دوسرے 6 لڑکوں کو دلکشا ہوسٹل میں شفٹ کردیا۔ سوائے شیخو خاں کے وہ ”مجیٹھ ہال“ میں ہی ڈٹا رہا اور ہم سب سر جھکا کر شب و روز گزارنے لگے۔ اور خادم نے آخر B.Sc پاس کر کے کالج چھوڑا۔
یہ بھی پڑھیں: سناروں کے گرد بھی گھیرا تنگ، ایف بی آر نے نوٹسز جاری کردیے، اسلام آباد کی بڑی رئیل اسٹیٹ کمپنی پر بھی چھاپہ
ہیڈ آف فزکس ڈیپارٹمنٹ
وائس پرنسپل اور ہیڈ آف دی بھی فزکس ڈیپارٹمنٹ، خود میں عبد الغفور بے خبرؔ یا دوسرے علاقہ کے با اثر زمینداروں کے بگڑے سپوت یا چند فری لانسر شہری بابو، اُن کے پیریڈ میں سب پر موت کا سا سکوت ہوتا تھا۔ جسے انگریزی زبان میں Pindrop Silence کہتے ہیں۔ حالانکہ اُن کو ہم نے غصّہ کی حالت میں کبھی بھی نہ دیکھا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو کا مستقل جنگ بندی پر مشروط آمادگی کا اظہار، 60 روزہ سیزفائر کے دوران غزہ کو غیر مسلح کرنے کی شرط
پروفیسر کا تدریس کا انداز
اُن کے ہاتھ میں ایک خستہ سے کور میں ایک نوٹ بک ہوتی تھی۔ جو تحقیق کے بعد پتہ چلا تھا کہ یہ نوٹس اُنہوں نے لدھیانہ (انڈیا) میں بطور ڈیمانسٹریٹر کام کرتے تیّار کیے تھے۔ 30 منٹ کے پیریڈ میں منہ سے صرف ایک لفظ ہی بولتے تھے جو دو معنی رکھتا تھا۔ شروع میں وہ لڑکوں کی طرف متوجّہ ہوتے اور کہتے "Write" یعنی لکھو اور خود اُس نوٹ بک سے دیکھ دیکھ کر بورڈ پر لکھتے جاتے۔ کچھ وقفہ کے بعد لڑکوں کی طرف توجہ کرتے تو محسوس کرتے کہ سبھی لکھ چکے ہیں تو دُوسرا لفظ Right کہتے کہ ٹھیک ہے آپ لکھ چکے۔ تو اِسی طرح سار آپیریڈ اِن دو لفظوں کے تکرار سے گزر جاتا۔
طلباء کے سوالات کا جواب
اب شو مئے قسمت ہی کہئے کہ 28 طالب علموں کی کلاس میں کوئی ایک آدھ سٹوڈنٹ بعض چیزوں کی مزید تفصیل اگر چاہتا تو وہ پوچھ بیٹھتا کہ جناب اِس کی سمجھ نہیں آئی۔ اِس پر آپ مزید روشنی ڈالیں۔ پروفیسر صاحب اپنے علم سے اُس کی تشنگی کو دُور کرنے کی بجائے کہتے "Write"…… یعنی لکھ اور اُس لڑکے کی طرف متوجہّ ہو کر کہتے کہ ”آپ کے سوال کا جواب آگے آرہا ہے۔“ اِس طرح پیریڈ اختتام پذیر ہوتا اور پروفیسر صاحب اپنی نوٹ بک لے کر اپنے دفتر میں جا بیٹھتے۔ اور اُس لڑکے کے سوال کا جواب کہیں نظر نہ آتا۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








