بے یقینی کے سائے چھائے ہیں، ہر کوئی اپنا راگ الاپ رہا ہے، دانشوروں کا حلقہ علم، تجربہ اور کارکردگی کی بنیاد پر اراکین اسمبلی کے انتخاب کا حامی ہے۔
سیاسی اور معاشی بحران
مصنف:رانا امیر احمد خاں
قسط:299
گزشتہ 40سالوں کے دوران سیاسی لوٹ کھسوٹ اور بدعنوانیوں کے باعث مملکت خدادادِ پاکستان اس وقت شدید سیاسی و معاشی بحران کا شکار ہے۔ بے یقینی کے سائے چھائے ہوئے ہیں۔ ہر کوئی اپنا الگ راگ الاپ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اسرائیل تنازع، امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے میڈیا بریفنگ میں ’’پہلی ترجیح‘‘ بتا دی
سیاسی جماعتوں کی ناکامیاں
سیاسی حکومتوں کی ناکامی کی ایک وجہ گڈگورننس کا نہ ہوناہے اور نسل درنسل سیاسی خاندانوں کا کرپشن میں ملوث ہونا بھی ہے۔ اکثر سیاسی جماعتیں خاندانی وراثتی جماعتوں کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ اسی لیے وطن عزیز میں دانشوروں کا ایک حلقہ سیاسی پارٹیوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ اہل امیدواروں کے درمیان، علم، تجربہ اور ان کے ماضی کی کارکردگی کی بنیاد پر اراکین اسمبلی کے انتخاب کا حامی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سمیت 21 مسلم ممالک نے اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا مسترد کر دیا
مفاد پرستی اور بدعنوانی
ان کے خیال میں سیاسی جماعتوں کی سیاست دھڑے بازی اور عوام الناس کو جھوٹ بول کر اور لمبے چوڑے دعوے کر کے اْلو بنانے کی سیاست ہے۔ سیاسی جماعتیں قانون کے نفاذ اور میرٹ و انصاف کا نظام قائم کرنے کی بجائے اپنے کارکنوں کو ناجائز فائدے پہنچانے کے لیے مفاد پرستی، بھتہ خوری، سفارش، بدعنوانی کے کلچر کو پروان چڑھاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارا مقصد صرف بنگلہ دیش کو عزت دلانا تھا، بی سی بی کے تمام مطالبات مانے گئے ، محسن نقوی
قوم کی تقسیم
لڑائی جھگڑے، بلوے، ہنگامہ آرائی اور ٹارگٹ کلنگ کا راستہ اپناتی ہیں۔ حکومت وقت کو اپنی عددی اکثریت کے زعم پر حکومت گرانے کی آڑ میں بلیک میل کرتی ہیں۔ ملک کے مقتدر حلقوں اور بعض اوقات پاکستان کے دشمن ملکوں سے بھی سازباز کرتی ہیں۔ غنڈے پالتی ہیں۔ قوم کو متحارب دھڑوں، ذات برادری، نسلی، علاقائی، فرقہ وارانہ اور صوبائی تعصبات کو ہوا دے کر تقسیم کرتی ہیں۔ قومی اتحاد اور ملکی استحکام کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر رؤف امیر نے نامساعد حالات میں بھی وطن کا نام بلند کئے رکھا، لیفٹیننٹ جنرل (ر) سینیٹر عبدالقیوم
اصلاحات کی ضرورت
غرضیکہ سیاسی پارٹیاں ملک میں بہت ساری خرابیوں کی جڑ ہیں۔ اصلاح احوال کے لیے سیاسی جماعتوں کے قائدین کو اپنے لیے کوئی متفقہ کوڈ آف کنڈکٹ تیار کر کے اس پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھی اپنا موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: درختوں کی کٹائی سے متعلق درخواست پر پی ایچ اے کو نوٹس جاری
سزاور جماعتوں کی رجسٹریشن
صرف قومی سطح پر قومی مسائل کے حل کے لیے کام کرنے والی جماعتوں کو بطور سیاسی پارٹی رجسٹرڈ کیا جائے۔ فرقہ وارانہ، مذاہب و مسالک پسند، صوبائیت، نسلی و محلاتی تعصبات کو ہوا دینے والے گروہوں کو بطور سیاسی جماعت ہرگز رجسٹرڈ نہ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد سمیت مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش کی پیشگوئی
سٹیزن کونسل آف پاکستان کا خراجِ تحسین
سٹیزن کونسل آف پاکستان کے خصوصی اجلاس میں پاکستان کے نامور اور بے باک صحافی مجید نظامی چیف ایڈیٹر’’ نوائے وقت ‘‘کے انتقال پر تعزیتی قرارداد پیش کی گئی۔ سٹیزن کونسل کے تعزیتی اجلاس میں کونسل کے صدر رانا امیر احمد خاں، پاکستان ٹی وی کرنٹ افیئرز کے سابق سربراہ افتخار مجاز، شہزاد سلیم ایڈووکیٹ، رانا شاہد ایڈووکیٹ، رانا طاہر محمود ایڈووکیٹ، ایم اکرام چوہدری، احمد وسیم، پروفیسر مشکور صدیقی، محمد رمضان میو، پروفیسر نصیر احمد چوہدری، آغا نوروز، ظفر علی راجا اور دیگر احباب نے شرکت کی اور مجید نظامی کی بے مثال صحافتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
سنٹر فار چینج کراچی کے ساتھ تعاون
مجھے 2011ء میں سنٹر فار چینج کراچی کے چیئرمین بشیر اے چوہدری کی جانب سے درج ذیل لیٹر موصول ہوا جس کی روشنی میں سٹیزن کونسل آف پاکستان کی جانب سے 3 بڑی تقریبات کے انعقاد میں دستِ تعاون مہیا کیا گیا، جن کا ذکر اگلے صفحات میں آئے گا۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








