ایران اور امریکہ کے درمیان عمان میں جوہری مذاکرات کا دور مکمل ہوگیا، وائیٹ ہاؤس نے کیا کہا ۔۔؟ جانیے
عمان میں جوہری مذاکرات کا اختتام
عمان (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران اور امریکہ کے درمیان عمان میں جوہری مذاکرات کا آج ہونے والا دور مکمل ہوگیا۔ ایران اور وائیٹ ہاؤس کا مذاکرات کے بعد مؤقف بھی سامنے آ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈویثرن کا دورہ مکمل کر لیا، سیاسی مداخلت ڈسپلن میں آڑے نہیں آنی چاہیے، کسی سے کوئی زیادتی نہیں ہو گی اور نہ ہی قانون سے ماورا کوئی قدم اٹھایا جائے گا۔
مذاکرات میں شرکاء
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق مذاکرات میں ایرانی وفد کی نمائندگی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی جبکہ امریکہ کی نمائندگی امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے دوران مکانات کی چھتیں گرنے سے 4 افراد جاں بحق، 4 شدید زخمی
مذاکرات کا دورانیہ اور نتائج
ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ عمان میں امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کا تازہ ترین دور اختتام پذیر ہو گیا ہے، جس کے بعد دونوں وفود اپنے اپنے ممالک واپس روانہ ہوں گے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایرانی وفد کے ساتھ موجود ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے ایک رپورٹر نے بتایا کہ امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کئی گھنٹوں تک جاری رہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اور اسرائیل کی جنگ کے دوران امریکہ اور ایران کے خفیہ رابطے، رائٹرز کا دعویٰ
مذاکرات کے نتائج کی تصدیق
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بھی مذاکرات کے اختتام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’’مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق‘‘ پایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شوہر کے ساتھ گھومنے نکلی نئی نویلی دلہن کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا.
ایرانی وزیر خارجہ کا بیان
مذاکرات کے بعد ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ بات چیت مثبت رہی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانیوں کا قتل؛ ثابت ہوا کہ بلوچ دہشتگرد تنظیموں کی ایران میں محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں
وائٹ ہاؤس کا موقف
دوسری جانب ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ سفارتکاری ناکام ہوئی تو صدر ٹرمپ کے پاس دیگر آپشنز بھی ہیں۔
اجلاس کے دوران بات چیت
رپورٹ کے مطابق جمعے کی صبح شروع ہونے والے اس اجلاس کے دوران ایران اور امریکہ کے مذاکراتی وفود نے اپنے اپنے مؤقف، تحفظات اور طریقۂ کار عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے ذریعے ایک دوسرے تک پہنچائے۔








