انڈونیشیا میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 74 ہو گئی
انڈونیشیا میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہلاکتیں
جکارتہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) انڈونیشیا میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 74 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق جاوا کے مغربی بندونگ علاقے میں واقع ایک پہاڑی گاؤں میں آنے والے اس تباہ کن حادثے کے بعد لاپتہ افراد اور لاشوں کی تلاش تقریباً دو ہفتے گزرنے کے باوجود جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کے علاقے ژوب میں سیلابی میں بہہ کر تین بچیاں اور خاتون جاں بحق ہوگئیں
شدید بارشوں کا اثر
خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق 24 جنوری کو ہونے والی شدید بارشوں کے باعث پہاڑ کا ایک بڑا حصہ کھسک گیا، جس نے پاسرلانگو گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مٹی اور ملبے تلے درجنوں مکانات دب گئے جبکہ سینکڑوں افراد بے گھر ہو گئے۔ پولیس، فوج اور رضاکاروں کی مدد سے ہزاروں ریسکیو اہلکار بھاری مشینری اور ہاتھوں سے ملبہ ہٹا کر تلاش کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایم ڈی کیٹ کی فیس 80 فیصد نہیں بلکہ صرف 12.5 فیصد بڑھائی گئی : ترجمان پی ایم ڈی سی
لاشوں کی شناخت اور تلاش کا عمل
مقامی سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی کے مطابق اب تک 74 افراد کی لاشوں کی شناخت ہو چکی ہے۔ ایجنسی کے سربراہ آدے دیان پرمانا نے بتایا کہ لاپتہ افراد کی فہرست میں اب بھی کئی نام شامل ہیں، تاہم انہوں نے درست تعداد نہیں بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ خراب موسم اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ ہے، کیونکہ گھنا کہر اور بارش سرچ آپریشن کے علاقے کو ڈھانپے ہوئے ہیں، جس سے نہ صرف حدِ نگاہ متاثر ہو رہی ہے بلکہ زمین کے مزید غیر مستحکم ہونے کا خطرہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلاش کا عمل جاری رہے گا، تاہم اب اسے ریکوری مرحلے کے مطابق ایڈجسٹ کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گروپ انشورنس عدم ادائیگی کیس: پنشن بند ہونے کے عندیہ پر عدالت برہم
متاثرین اور مقامی حالات
انڈونیشین بحریہ کے مطابق اس لینڈ سلائیڈنگ کے وقت علاقے میں تربیت حاصل کرنے والے بحریہ کے 23 اہلکار بھی متاثرین میں شامل تھے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 50 مکانات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ 160 سے زائد افراد اب بھی بے گھر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مظفرگڑھ: کچے کے علاقے میں 11 ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیئے
جنگلات کی کٹائی اور قدرتی آفات
حکومتی حکام نے اس سانحے میں جنگلات کی کٹائی کے کردار کی نشاندہی بھی کی ہے۔ گزشتہ سال پڑوسی جزیرے سماٹرا میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں تقریباً 1200 افراد ہلاک اور 2 لاکھ 40 ہزار سے زائد بے گھر ہو گئے تھے۔ ماہرین کے مطابق جنگلات بارش کے پانی کو جذب کرنے اور زمین کو جڑوں کے ذریعے مضبوط رکھنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ ان کی کمی علاقوں کو لینڈ سلائیڈنگ کے لیے زیادہ خطرناک بنا دیتی ہے。
قدرتی آفات کا تسلسل
واضح رہے کہ انڈونیشیا جیسے وسیع جزیرہ نما ملک میں بارشوں کے موسم، جو عموماً اکتوبر سے مارچ تک رہتا ہے، اس قسم کی قدرتی آفات معمول بن چکی ہیں۔








