عمان میں مذاکرات کے بعد امریکہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
نئی پابندیاں عائد
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کردیں۔ یہ پابندیاں اس وقت عائد کی گئیں جب عمان میں دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا ایک دور ختم ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں ناخلف بیٹے نے باپ کو قتل کر دیا،ملزم گرفتار
امریکی انتظامیہ کا مقصد
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ان پابندیوں کا مقصد ایران کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدن کو روکنا ہے، جسے واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ ایران دنیا بھر میں عدم استحکام پھیلانے اور اندرونِ ملک سخت جبر کے لیے استعمال کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت ٹرانسپورٹ، انفراسٹرکچر اور ریل کے نظام کی ترقی پر تیزی سے کام کر رہی ہے، بلال اظہر کیانی
صدر ٹرمپ کی پالیسی
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے غیر قانونی تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات کو کم سے کم سطح پر لانے کے لیے اپنی “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ یہ تازہ پابندیاں اسی پالیسی کے تحت عائد کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کا اٹک، بہاولنگر اور لودھراں میں خواتین وکلاءکیلئے بار رومز، ڈے کیئرسینٹرز بنانے کا حکم
تحریری پابندیاں
امریکی محکمہ خارجہ نے بتایا کہ ایران کے تیل لے جانے والے 14 بحری جہازوں کے ساتھ ہر قسم کے لین دین پر پابندی عائد کی جا رہی ہے، جن میں ترکی، بھارت اور متحدہ عرب امارات کے جھنڈے تلے رجسٹرڈ جہاز بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 15 اداروں اور دو افراد کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونا ۳۲۰۰ روپے مہنگا، فی تولہ قیمت ۴ لاکھ ۶۷ ہزار ۹۶۲ روپے ہو گئی
امریکہ کا مؤقف
اے ایف پی کے مطابق امریکہ پہلے ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی صدارت کے دور سے یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک ایران سے تیل نہ خریدے، اور اسی مقصد کے لیے مسلسل پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کرم میں مسافر گاڑی کھائی میں گر گئی، 7افراد جاں بحق
مذاکرات کا مثبت ماحول
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ نے جمعے کے روز عمان میں امریکی نمائندوں کے ساتھ اپنے ملک کے جوہری پروگرام پر بالواسطہ مذاکرات کیے، اور ان کا کہنا تھا کہ بات چیت کا ماحول مثبت رہا۔
حکومتی سختی
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ایران میں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد کی سب سے بڑی احتجاجی تحریکوں میں سے بعض کو حکومتی سطح پر سختی سے کچلا گیا۔ اسی تناظر میں صدر ٹرمپ ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکیاں بھی دے چکے ہیں، اور امریکہ نے ایران کے ساحلوں کے قریب اپنی فوجی موجودگی میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔








