پی سی بی نے ٹی 20 ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے معاملے پر بھارتی میڈیا کے دعوؤں کو مسترد کر دیا
پی سی بی نے بھارتی میڈیا کے دعوے مسترد کر دیے
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے معاملے پر بھارتی میڈیا کے دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: رمضان المبارک کے دوران متعدد اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ، ماہانہ بنیاد پر مہنگائی میں صفر اعشاریہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ
ترجمان پی سی بی کا بیان
ترجمان پی سی بی کے مطابق بھارتی میڈیا جھوٹ پر مبنی دعوے کر رہا ہے، وقت بتائے گا کہ کس نے کس کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ معروف بھارتی اسپورٹس جرنلسٹ وکرانت گپتا کے اس دعوے کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے معاملے پر پی سی بی نے آئی سی سی سے رجوع کیا۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں ’’دھی رانی پروگرام‘‘ کے تیسرے فیز کی تقریب، صوبائی وزراء کی شرکت، 84 مستحق جوڑوں کی اجتماعی شادی
بھارتی میڈیا کی کہانیاں
پی سی بی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حسبِ معمول بھارتی میڈیا کے کچھ حلقے من گھڑت کہانیاں پھیلانے میں مصروف ہیں۔ تھوڑا سا صبر اور وقت سب کچھ واضح کر دے گا کہ دروازہ کھٹکھٹانے کون گیا تھا اور کون نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دریائے ستلج نے وہاڑی کے مقام پر تباہی مچا دی، درمیانے درجے کا سیلاب برقرار
وکرانت گپتا کا دعویٰ
واضح رہے کہ بھارتی سپورٹس جرنلسٹ وکرانت گپتا نے ایک ٹویٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پی سی بی نے اب آئی سی سی کی جانب سے اپنی سرکاری خط و کتابت کے جواب کے بعد بھارت۔پاکستان ورلڈ کپ میچ کے معاملے پر بات چیت کے لیے آئی سی سی سے رابطہ کر لیا ہے۔
پی سی بی کا موقف
پی سی بی نے ابتدا میں آئی سی سی کو خط لکھ کر آگاہ کیا تھا کہ وہ اس میچ سے دستبردار ہو رہا ہے اور اس فیصلے کے لیے "فورس میجر" کا حوالہ دیا تھا، جس کے ساتھ حکومتِ پاکستان کا ایک ٹوئٹ بھی منسلک کیا گیا تھا۔ اس کے جواب میں آئی سی سی نے پی سی بی کو لکھا کہ وہ واضح کرے کہ "فورس میجر" کے تحت کن عوامل کا حوالہ دیا جا رہا ہے، اور ساتھ ہی پی سی بی کو ممکنہ قانونی نتائج اور ان پابندیوں سے بھی آگاہ کیا جو آئی سی سی اس پر عائد کر سکتا ہے۔ بعد ازاں پی سی بی نے اس معاملے کو "حل" کرنے کے لیے بات چیت کے مقصد سے دوبارہ آئی سی سی سے رجوع کیا ہے.








