پاکستان کا پاور سیکٹر اقتصادی ترقی میں رکاوٹ بنا: ورلڈ بینک
ورلڈ بینک کی رپورٹ
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) ورلڈ بینک حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کا پاور سیکٹر اقتصادی ترقی میں رکاوٹ بنا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز سے سبکدوش ہونے والے ورلڈ بنک کے کنٹری ڈائریکٹر ناجے بن حسین کی ملاقات
پاکستان کی جی ڈی پی اور خسارے کے تخمینے
ورلڈ بینک نے پاکستان ڈویلپمنٹ اپ ڈیٹ پاور سیکٹر ڈسٹری بیوشن اصلاحات رپورٹ 2024 جاری کر دی جس میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ کا تخمینہ 2.8 فیصد ہے جبکہ کرنٹ اکاو¿نٹ خسارے کا تخمینہ 0.6 فیصد ہے۔ مالی خسارے کا تخمینہ جی ڈی پی کا 7.6 فیصد ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پوڈکاسٹرز اور میڈیا مجھ پر الزامات لگانے والی لڑکیوں کو اہمیت دیتے ہیں حالانکہ ان میں کوئی سچائی نہیں،رجب بٹ
پاکستان میں خواتین کی لیبر فورس
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں لیبر فورس میں خواتین کا تناسب جنوبی ایشیا میں سب سے کم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خانپور ڈیم آلودہ پانی فراہمی کیس میں ایڈووکیٹ جنرل کے پی کو نوٹس
پاور سیکٹر کے مسائل
پاکستان کا پاور سیکٹر اقتصادی ترقی میں رکاوٹ بنا اور یہاں پاور جنریشن میں جدید ٹیکنالوجی کا فقدان رہا۔ بجلی کی ترسیل اور تقسیم بھی ناقص منصوبہ بندی کا شکار رہی۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتے) کا دن کیسا رہے گا ؟
عالمی تجارت اور سرمایہ کاری پر اثرات
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے عالمی تجارت اور سرمایہ کاری پر اثرات کے حوالے سے ورلڈ بینک حکام نے کہا کہ بجلی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے نقائص نے بجلی کی قیمت بڑھا دی۔ جنوبی ایشیائی ریجن میں آپس میں کم تجارت ہو رہی ہے، جبکہ زیادہ تجارت ریجن سے باہر ہو رہی ہے۔ حکام نے خام تیل کی قیمتیں زیادہ عرصے تک اوپر جانے کی توقع نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: سیکرٹری قومی اسمبلی طاہر حسین مستعفی
معاشی ترقی کا جائزہ
ورلڈ بینک حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان معاشی بحران سے باہر آیا ہے۔ معاشی ترقی 2.5 فیصد رہی جبکہ زرعی شعبے نے بھی ترقی کی ہے۔ مہنگائی کی شرح کم ہوئی ہے تاہم پاور سیکٹر کا گردشی قرض بڑا مسئلہ ہے۔
ایکچینج ریٹ میں استحکام
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایکسچینج ریٹ میں استحکام آیا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے ہیں۔








