پاکستان کا پاور سیکٹر اقتصادی ترقی میں رکاوٹ بنا: ورلڈ بینک
ورلڈ بینک کی رپورٹ
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) ورلڈ بینک حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کا پاور سیکٹر اقتصادی ترقی میں رکاوٹ بنا۔
یہ بھی پڑھیں: 14 گھنٹوں میں 101 مردوں سے تعلق قائم کرنے والی ماڈل کا ایک دن میں 1 ہزار مردوں کے ساتھ تعلق بنانے کا فیصلہ، والدین کا موقف بھی آگیا
پاکستان کی جی ڈی پی اور خسارے کے تخمینے
ورلڈ بینک نے پاکستان ڈویلپمنٹ اپ ڈیٹ پاور سیکٹر ڈسٹری بیوشن اصلاحات رپورٹ 2024 جاری کر دی جس میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ کا تخمینہ 2.8 فیصد ہے جبکہ کرنٹ اکاو¿نٹ خسارے کا تخمینہ 0.6 فیصد ہے۔ مالی خسارے کا تخمینہ جی ڈی پی کا 7.6 فیصد ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میجر عدیل زمان شہید کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی، فیلڈ مارشل، وزیر داخلہ، کورکمانڈر پشاور اور اعلیٰ افسران کی شرکت
پاکستان میں خواتین کی لیبر فورس
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں لیبر فورس میں خواتین کا تناسب جنوبی ایشیا میں سب سے کم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کبھی بھرپور پروٹوکول میں گھومنے والا سابق امریکی صدر جو بائیڈن کا بیٹا اب کہاں اور کس حال میں ہے؟ نئی تصویر سامنے آگئی۔
پاور سیکٹر کے مسائل
پاکستان کا پاور سیکٹر اقتصادی ترقی میں رکاوٹ بنا اور یہاں پاور جنریشن میں جدید ٹیکنالوجی کا فقدان رہا۔ بجلی کی ترسیل اور تقسیم بھی ناقص منصوبہ بندی کا شکار رہی۔
یہ بھی پڑھیں: استحکام پاکستان پارٹی کا لاہور سمیت پنجاب بھر میں سیاسی طاقت شو کرنے کا فیصلہ، ورکرز کنونشنز کا شیڈول مانگ لیا
عالمی تجارت اور سرمایہ کاری پر اثرات
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے عالمی تجارت اور سرمایہ کاری پر اثرات کے حوالے سے ورلڈ بینک حکام نے کہا کہ بجلی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے نقائص نے بجلی کی قیمت بڑھا دی۔ جنوبی ایشیائی ریجن میں آپس میں کم تجارت ہو رہی ہے، جبکہ زیادہ تجارت ریجن سے باہر ہو رہی ہے۔ حکام نے خام تیل کی قیمتیں زیادہ عرصے تک اوپر جانے کی توقع نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: الحمدللہ کوئی مالیاتی اسکینڈل سامنے نہیں آیا،پائی پائی عوام کی امانت،اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز
معاشی ترقی کا جائزہ
ورلڈ بینک حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان معاشی بحران سے باہر آیا ہے۔ معاشی ترقی 2.5 فیصد رہی جبکہ زرعی شعبے نے بھی ترقی کی ہے۔ مہنگائی کی شرح کم ہوئی ہے تاہم پاور سیکٹر کا گردشی قرض بڑا مسئلہ ہے۔
ایکچینج ریٹ میں استحکام
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایکسچینج ریٹ میں استحکام آیا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے ہیں۔








