البانیا میں کرپشن الزامات پر حکومت کے خلاف مظاہرے پھوٹ پڑے، پارلیمنٹ کا گھیراؤ، گرفتاریاں
بدعنوانی کے الزامات پر مظاہرے
ترانہ (مانیٹرنگ ڈیسک) البانوی حکومت پر بدعنوانی کے الزامات کے باعث دارالحکومت ترانہ میں متعدد مقامات پر حکومت مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں وی پی این کو ‘غیر شرعی’ قرار دیا گیا: ‘جس کمپیوٹر پر اسلامی نظریاتی کونسل نے فتویٰ جاری کیا، اسے بھی حرام قرار دینا ہوگا’
وزیرِ اعظم کا استعفیٰ کا مطالبہ
مظاہرین نے وزیرِ اعظم ایدی راما (Edi Rama) سے فوری استعفے کا مطالبہ کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغان سرزمین سے جنم لینے والے خطرات کے خلاف پاکستان کا ردِعمل جارحیت نہیں بلکہ اپنا دفاع ہے، عمران اسماعیل
تشدد اور جھڑپیں
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، البانیہ کے دارالحکومت ترانہ میں مشتعل مظاہرین نے سرکاری عمارت پر پیٹرول بم پھینکے اور پارلیمنٹ کا بھی گھیراؤ کر لیا ہے۔ ’’جنگ‘‘ نے میڈیا رپورٹس کے حوالے سے بتایا ہے کہ پارلیمنٹ کے اطراف کی سڑکوں پر تقریباً 2 گھنٹے تک پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
گرفتاریاں اور تحقیقات
میڈیا رپورٹس کے مطابق 30 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ البانیہ کی نائب وزیرِ اعظم بیلندا بالوکو (Belinda Balluku) کو بدعنوانی سکینڈل کے باعث معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔








