ٹرمپ کی جنگی پالیسیوں سے ملک کو 44 ارب ڈالر کا نقصان اور پٹرول کی قیمت 4 ڈالر سے زائد ہو گئی ہے،امریکی ڈیموکریٹ سینیٹر چک شومر
سینیٹر چک شومر کی تنقید
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی ڈیموکریٹ سینیٹر چک شومر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں شروع کی گئی جنگ نے ملک کو 44 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں 4 ڈالر سے زائد اضافے نے عوام کو پہلے سے زیادہ مشکلات میں ڈال دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ججز اپنی لڑائیاں خود لڑیں، وکلا ساتھ نہیں ہیں، سیکریٹری جنرل اسلام آباد ہائیکورٹ بار
جنگ کی صورتحال
ایکس پر جاری بیان میں سینیٹر شومر نے مزید کہا کہ اس جنگ کے نتیجے میں ملک کی مجموعی صورتحال پہلے کے مقابلے میں بدتر ہو چکی ہے۔ اگر اس جنگ کو دوبارہ شروع کیا گیا تو حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔ جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے فوری طور پر "وار پاورز ریزولوشن" منظور کی جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی غیر ضروری فوجی مداخلت کو روکا جا سکے۔ ملک کے مفاد میں جنگ کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دینی چاہیے۔
سینیٹر شومر کا بیان
Trump is a military moron.
His war, with a price tag of $44 billion and $4+ gas, made us worse off today than we were when he started it.
And if he restarts this war we will be in even worse shape. We must pass our War Powers Resolution to end this war for good.
— Chuck Schumer (@SenSchumer) April 8, 2026








