عراق کی سرزمین سے ڈرون حملے، سعودی عرب نے عراقی سفیر کو طلب کر لیا
سعودی وزارت خارجہ کا عراقی سفیر کو طلب کرنا
ریاض (ویب ڈیسک) سعودی وزارت خارجہ نے اتوار کو مملکت میں عراق کی سفیر صفیہ طالب السھیل کو عراقی سرزمین سے ڈرونز کے ذریعے مملکت اور خلیجی ملکوں کو نشانہ بنانے کے لیے مسلسل حملوں اور دھمکیوں پر طلب کیا۔
یہ بھی پڑھیں: یوکرین نے روس کے میزائل سائنسدان کو قتل کردیا
احتجاجی یادداشت کا حوالہ
سعودی وزارت خارجہ نے عراق کی سفیر کو احتجاجی یادداشت حوالے کی۔ اردو نیوز کے مطابق مملکت اور خلیجی ملکوں کے خلاف حملوں میں عراقی سرزمین استعمال کیے جانے کی مذمت کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کانپور کے لیے ٹرین پکڑنے کے لیے ہمارے پاس وقت بہت کم رہ گیا تھا، مولانا آزاد کے مزار پر کھڑے کھڑے جوہر برادرز کے لیے غائبانہ دعا کی۔
سعودی عرب کی جانب سے ذمہ داری کا اظہار
سعودی نیوز ایجنسی سپا کے مطابق وزارت خارجہ کے انڈر سیکرٹری برائے سیاسی امور نے عراق کو ایسے حملوں اور خطرات سے ’ذمہ داری سے نمٹنے‘ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’سعودی عرب‘ اپنی سلامتی کے دفاع اور اپنی سرزمین کے تحفظ کےلیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: تفصیلات طلب: پی ٹی آئی جلسہ میں شامل ریسکیو 1122 گاڑیوں کی معلومات
عرب ممالک کا مشترکہ بیان
اس سے قبل سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور اردن نے مشترکہ بیان میں عراقی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین سے پڑوسی ملکوں پر مسلح گروپوں اور ملیشیاوں کے حملے فوری طور پر روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں 12سال بعد کاشتکاروں کیلئے گرین ٹریکٹر اسکیم شروع، کتنی سبسڈی دی جائے گی؟ جانیے
ایران کی مذمت
مشترکہ بیان میں ایران کی جانب سے حملوں کی شدید مذمت کا اعادہ کیا گیا خواہ وہ براہ راست کیے گئے یا پراکسیز اور خطے میں ایران نواز مسلح گروپوں کے ذریعے کیے جا رہے ہیں۔
بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی
بیان میں کہا گیا ’یہ حملے نہ صرف علاقائی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں بلکہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کے قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے بھی منافی ہیں، چاہے یہ حملے براہ راست ہوں یا ایران نواز فریقوں اور مسلح گروپوں کے ذریعے کیے جائیں۔’








