پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں: جلال پور پیر والا کے قریب موٹروے کا حصہ پانی میں بہہ گیا، ٹریفک کے لیے بند
جاری سیلاب کی تباہ کاریاں
ملتان (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد بپھرے دریاؤں نے اپر پنجاب کے بعد جنوبی پنجاب میں بھی تباہی کی داستان رقم کردی۔ جلال پور پیروالا کے قریب دونوں اطراف سیلابی پانی کے بہاؤ نے ملتان سکھر ایم فائیو (M-5) موٹروے کو نقصان پہنچایا، جس کا ایک حصہ بہہ گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں موٹروے کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آج کے دن ہمیں پاکستان کو دنیا میں باوقار مقام دلانے کا عہد کرنا ہوگا: مریم نواز
پنجاب کے دریاؤں کی صورتحال
پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی سطح کم ہونے کے باوجود، جنوبی علاقوں میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ سیلاب جنوبی پنجاب سے آگے بڑھتا ہوا سندھ میں داخل ہورہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے ریاض ریجن کے مینجر بلال احمد کی تین سالہ مدت تعیناتی کامیابی سے مکمل، شکیل احمد نئے مینجر تعینات
شجاع آباد کی صورتحال
شجاع آباد میں دریائے چناب میں طغیانی سے 15 موضاجات پانی میں ڈوب گئے، جبکہ 17 موضاجات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ اب تک 4000 سے زیادہ افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا،وقت تبدیل ، 16 نکاتی ایجنڈا بھی جاری
جال پور پیروالا میں نقصانات
جال پور پیروالا میں دریائے چناب اور دریائے ستلج نے 80 سے دیہات کو ڈبو دیا، جہاں سے 80 ہزار متاثرین کو ریسکیو کیا گیا، جبکہ متعدد افراد اب بھی سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پورا ملک یرغمال بنا ہوا، طاقتور اسٹیبلشمنٹ اڈیالہ جیل میں بیٹھے شخص سے خوفزدہ ہے، اسد طور
موٹروے ایم 5 کی حالت
دریائے ستلج کے پانی نے موٹروے ایم 5 کو بھی متاثر کیا، جہاں موٹروے ٹنل کے قریب دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ موٹروے کے دونوں اطراف پانی کی روانگی کے سبب موٹروے اب بھی ٹریفک کے لیے بند ہے۔
جلالپور پیروالا کے قریب موٹروے ایم 5 کا شمالی حصہ 50فٹ تک سیلابی پانی میں بہہ گیا ہے اور موٹروے کا جنوبی حصہ بھی کٹاؤ کا شکار ہے۔ ملتان سکھر موٹروے ایم 5 ملتان سے ترنڈہ محمد پناہ اور اُچ شریف تک کل سے بند ہے اور اب موٹروے ایم فائیو کھلنے کے فوری امکانات بھی نہیں ہیں۔ pic.twitter.com/0LGZn3SZKb
— CPEC ???????????????? (@CPEC_UPDATE) September 15, 2025
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کو اپوزیشن اتحاد کا سربراہ بنانے کے حوالے سے کوئی آپشن زیر غور نہیں، بیرسٹر گوہر
مظفر گڑھ کی صورتحال
دریائے چناب میں پانی کی سطح کم ہونے کے باوجود، مظفر گڑھ میں کئی بستیاں تاحال زیرآب ہیں۔ سیلاب نے 2000 سے زائد گھروں کو متاثر کیا ہے جبکہ 30000 سے زیادہ متاثرین اب بھی گھروں کی راہ تک رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عید قریب آتے ہی لاہور سے پردیسیوں کی واپسی میں تیزی، بس اڈوں پر شدید رش
دیگر متاثرہ علاقوں کی تفصیلات
لیاقت پور میں پانی کی سطح تو کم ہوگئی ہے لیکن کئی بستیاں تاحال زیرآب ہیں۔ سیلاب متاثرین شدید گرمی میں کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ چشتیاں کے 47 موضع جات ابھی بھی پانی کی لپیٹ میں ہیں، جن میں موضع راجوشاہ، بونگہ جھیڈ، مزید شاہ، میرن شاہ شدید متاثر ہوئے ہیں۔ اوچ شریف کے 25 دیہات پانی میں ڈوبے گئے اور زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں دھماکہ، دو افراد جاں بحق
علی پور کا حال
علی پور میں دریائے ستلج، راوی اور چناب نے کئی بستیوں کو ڈبو دیا۔ ہیڈ پنجند سے 2 لاکھ 87 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزرا ہے۔ علی پور سے سیت پور کا زمینی راستہ بحال کرنے کے لئے کام جاری ہے۔
سیلاب کی سمت
سیلاب راجن پور، روجہان کو متاثر کرتا ہوا سندھ کی جانب رواں دواں ہے۔ کوٹ مٹھن کے مقام پر دریائے سندھ میں اس وقت پانی کا بہاؤ 6 لاکھ کیوسک ہے۔








