سیشن کورٹ لاہور نے ملزم یوٹیوبر سعد الرحمن عرف ڈکی بھائی کی ضمانت خارج کردی
لاہور: یوٹیوبر سعد الرحمان کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سیشن کورٹ لاہور نے ملزم یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی کی درخواست ضمانت پر محفوظ فیصلہ سنایا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بنگلہ دیش کے 1971 کے واقعات پر معافی اور معاوضے کے مطالبے کی خبروں پر رد عمل جاری کر دیا
عدالت کی کارروائی
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج ڈاکٹر ساجدہ چوہدری نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کی ضمانت خارج کردی۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ بندی کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی، افغان دعویٰ مضحکہ خیز ہے: وزارت اطلاعات
وکیل کا مؤقف
دوران سماعت، ڈکی بھائی کے وکیل نے عدالت میں مؤقف پیش کیا کہ اس مقدمے میں کوئی ایک بھی گواہ موجود نہیں ہے، نہ ہی ان کے مؤکل کو کسی قسم کا نوٹس جاری کیا گیا اور نہ ہی ان سے کوئی ایپ ریکور کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا ذیابیطس میں مبتلا افراد روزہ رکھ سکتے ہیں؟ ماہرین صحت نے مفید احتیاطی تدابیر بتادیں۔
انکوائری کی تفصیلات
وکیل نے مزید بتایا کہ انکوائری کا آغاز 30 جون کو ہوا، جبکہ ڈکی بھائی کو 13 اگست کو گرفتار کیا گیا اور مقدمہ 17 اگست کو درج کیا گیا۔ وکیل کا کہنا تھا کہ انہوں نے پییکا 37 لگائی، جس کا مطلب یہ ہے کہ کیا یہ غیر قانونی ایکٹیویٹی ہے تو پہلے اس کو بلاک کیا جاتا، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: جیل میں اخبارات، ٹی وی، ورزش کا سامان نہیں دیا جارہا، لباس اور بستر دینے میں تاخیر، معالج سے چیک اپ نہیں کرایا جارہا، عمران خان
پی ٹی اے کے کردار پر سوالات
وکیل نے کہا کہ اگر یہ ایپس غیر قانونی تھیں تو سب سے پہلے پی ٹی اے یا متعلقہ ادارے کو انہیں بلاک کرنا چاہیے تھا۔ 2020 کے رول بھی ان کو کہتے ہیں کہ اگر اس طرح غیر قانونی ایپس چل رہی ہیں تو انہیں بند کروائیں۔ جب تک مقدمہ درج ہوا، اس وقت تک پی ٹی اے نے ان ایپس کو نہ تو بین کیا تھا اور نہ ہی غیر قانونی قرار دیا تھا۔
فیصلے کا انتظار
بعد ازاں ایڈیشنل سیشن جج ساجدہ چوہدری نے وکلا کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا، جبکہ نیشنل سائبر انوسٹیگیشن ایجنسی نے جوا ایپ کی پروموشن کا مقدمہ درج کر رکھا ہے۔







