صرف دہلی میں سائیکل رکشاؤں کے مفلوک الحال مسلمان ڈائیوروں اور جامع مسجد کی خستہ حالی دیکھنے سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے
مصنف کی معلومات
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 211
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ اور برطانوی وزیر اعظم کا رابطہ، اجتماعی دفاع کیلئے برطانوی فضائیہ کے اڈوں کے استعمال پر بات چیت
نماز مغرب کی تیاری
پروگرام کے مطابق نماز مغرب سے آدھ گھنٹہ پہلے ہمارے وفد کے تمام ارکان جامع مسجد دہلی میں موجود تھے۔ یہ مسجد مغل بادشاہ شاہجہاں کی لافانی یادگاروں میں سے ایک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ میں زیرسماعت کیس کی عدالتی دستاویز چوری
تاریخی مساجد کی جھلک
شاہ جہان نے اپنی زندگی میں جو مساجد تعمیر کروائیں ان میں جامع مسجد دہلی کے علاوہ پشاور کی مسجد مہابت خاں، لاہور میں لاہوری گیٹ کی مسجد مریم زمانی اور مشہور بادشاہی مسجد کے علاوہ، ٹھٹھہ صوبہ سندھ کی شاہ جہانی مسجد بھی شامل ہیں جو اپنے تعمیراتی حسن اور اچھوتے پن کی وجہ سے لاثانی تصور کی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سیہون شریف: بکریوں اور بھیڑوں کا جھنڈ ٹرک کی زد میں آگیا، 30 سے زائد ہلاک
مسجد کی حالت
نماز میں ابھی تھوڑا وقت باقی تھا جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم نے مسجد کے برآمدے کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر تصویریں بنوائیں۔ پھر مسجد کی صورتحال پر نظر ڈالی۔ فرش کی ٹائلیں خستہ حالت میں تھیں۔ کچھ سلیں عرصہ سے ٹوٹی ہوئی معلوم دے رہی تھیں۔ مسجد کے برآمدوں میں قرآنی خطاطی اور نقش و نگار گردش ایام کی سولی تلے ماند پڑ رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری ادارے نہیں چلا سکتے تو کس بات کی گورننس، چھوٹے طیارے کی قیمت میں ایئر لائن بیچ دی: حافظ نعیم الرحمان کھل کر بول پڑے
صفائی اور سہولیات
صفائی اور سہولیات کا وہ نظام کہیں نظر نہیں آتا تھا جو لاہور کی بادشاہی مسجد میں دیکھا جا سکتا ہے۔ صرف دہلی شہر میں ایک لاکھ سے زائد سائیکل رکشاؤں کے مفلوک الحال مسلمان ڈائیوروں اور جامع مسجد کی خستہ حالی دیکھنے سے ہی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے اور ایک غلام ملک میں رہنا کتنا دشوار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: مبینہ پولیس مقابلے میں 2 اغوا کار ہلاک، دو فرار،مغوی بازیاب
اقبالؒ کی شاعری
بقول اقبالؒ:
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں، نہ تدبیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے ایک جوئے کم آب
اور آزادی میں بحرِ بے کراں ہے زندگی
یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق کی فتح پر کارڈف میں شاندار تقریب، ہائی کمشنر ڈاکٹر فیصل مہمان خصوصی
واپسی کا سفر
نماز مغرب کے بعد جامع مسجد سے باہر واپس پنجاب بھون جانے کے لیے نکلے۔ ایک مرتبہ پھر خواتین ممبران نے مبّرا اعجاز کے لیے ان کے نام کی سم لینے کا جواز پیش کرتے ہوئے اکٹھے واپسی کی تجویز سے اختلاف کیا۔ سجاد محمود بٹ بھی خواتین کے ساتھ ہو لیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی سعودی عرب سے 10 سال کے لیے 5 ارب ڈالر کا ڈپازٹ، 5 ارب ڈالر کی تیل کی سہولت کی درخواست
قبرستان کی زیارت
جامع مسجد کے قریب صوفی بزرگ سرمد شہید اور ہرے بھرے بزرگ کی قبریں ہیں جن کے قریب ہی کچھ فاصلے پر ایک کھلی جگہ میں کانگرس کے پہلے مسلمان صدر مولانا ابو الکلام آزاد کا مزار ہے۔ یہ مزار بھی …بر مزار ماغریباں نے چراغے نے گلے کی تصویر پیش کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گزشتہ 4 بجٹ کے مقابلے میں اس بار ریلیف تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا گیا، عطا تارڑ
اہم معلومات
قریب ہی اخبار بینی میں مصروف ایک صاحب نے ارشاد چودھری کو پوچھنے پر بتایا کہ اس مزار کے آہنی جنگلے کا تالہ ان کی وفات کے دن 22 نومبر کو سال میں ایک دن کھولا جاتا ہے۔ اس دن اگر کوئی آ جائے تو جنگلے کے اندر قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر فاتحہ خوانی کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قلعہ نما رہائش، روبوٹ کتے اور وفاداروں کا انتخاب: امریکہ میں طاقت کا نیا مرکز جہاں ٹرمپ نئی حکومت کی تشکیل میں مصروف ہیں
تاریخی رہنما
یہ سن کر راقم نے دوستوں سے کہا کہ جن مسلمان رہنماؤں نے تحریک پاکستان اور قائد اعظم کی مخالفت کی تھی اور مولانا آزاد کی طرح اکھنڈ بھارت کی حمایت میں کانگرس کا ساتھ دیا تھا ان کے روحانی اور فکری پیروکاروں کو اس مزار کی حالت زار دیکھ کر عبرت حاصل کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش ٹیم کو وائٹ واش کئے جانے کے بعد پاکستانی ہیڈ کوچ کا بیان بھی سامنے آگیا
سرکاری ذمہ داریاں
جہانگیراے جھوجہ نے بھی کہا کہ مولانا آزاد بھی گاندھی، نہرو اور سردار پٹیل کے پائے کے رہنما تھے بلکہ علمیت کے لحاظ سے شاید ان سب سے زیادہ بڑے مرتبے پر فائز تھے۔ ان کی قبر اور اس پارک کو تحریک آزادی کے ہندو رہنماؤں کی یادگاروں جیسی توجہ دینا بھارت سرکار کا فرض بنتا ہے۔
(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








