ایران میں حکومت مخالف مظاہرے مسلسل ایک اور رات بھی جاری، دائرہ 180 شہروں تک پھیل گیا
ایران میں جاری مظاہرے
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران میں حکومت مخالف مظاہرے مسلسل ایک اور رات بھی جاری رہے، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ممکنہ امریکی مداخلت کی نئی وارننگ دے دی ہے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز کے مطابق، سخت سرکاری دھمکیوں، انٹرنیٹ بندش اور عالمی رابطوں کی معطلی کے باوجود مختلف شہروں میں مظاہرین سڑکوں پر نکلے رہے۔ یہ مظاہرے اب 180 شہروں تک پھیل چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چترال: 68 ہزار ڈالر میں لائسنس حاصل کرنے والا روسی باشندہ مارخور کا شکار کرنے میں کامیاب
احتجاج کی ابتدا اور شدت
سی بی ایس نیوز کے مطابق یہ احتجاج ابتدا میں دسمبر کے آخر میں تہران میں خراب معاشی حالات کے خلاف شروع ہوئے تھے، مگر دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں پھیل گئے اور حالیہ برسوں میں ایرانی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ بیرونِ ملک قائم ایک انسانی حقوق کی تنظیم، جو ایران کے اندر موجود ذرائع پر انحصار کرتی ہے، کے مطابق اب تک کم از کم 65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سیکیورٹی فورسز کے 14 اہلکار بھی شامل ہیں۔ بعض غیر سرکاری اندازوں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ اب تک 2300 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی سعودی عرب میں سعودی وزیر انصاف ولید السمعانی سے ملاقات، مفاہمتی یاداشت پر دستخط
مظاہرین کی حوصلہ افزائی
مظاہرین کو امریکی انتظامیہ کی جانب سے مسلسل حمایت اور ایران کے جلاوطن ولی عہد کی اپیلوں سے حوصلہ ملا ہے، جنہوں نے عوام سے کہا ہے کہ وہ سیکیورٹی فورسز پر دباؤ بڑھائیں اور شہروں اور قصبوں پر کنٹرول حاصل کریں۔ اسی تناظر میں احتجاج مزید شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے خلاف پاک فضائیہ کی شاندار کارکردگی کو یقینی بنانے والا سویڈن کا اہم ترین ہتھیار
ایرانی رہنماؤں کا ردعمل
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے خطاب میں امریکی صدر پر شدید تنقید کرتے ہوئے مظاہرین پر الزام عائد کیا کہ وہ امریکہ کو خوش کرنے کے لیے اپنے ہی شہروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو ایران کے معاملات میں مداخلت کے بجائے اپنے داخلی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ اس کے بعد سرکاری میڈیا نے مظاہرین کو دہشت گرد قرار دینا شروع کر دیا، جس سے ایک بڑے اور خونریز کریک ڈاؤن کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: جمعہ و اتوار ہیوی ٹریفک کے داخلے پر پابندی عائد
عدلیہ کی جانب سے خطرناک انتباہات
ایران کے اٹارنی جنرل نے خبردار کیا ہے کہ احتجاج میں شامل افراد کو خدا کا دشمن سمجھا جائے گا، جو ایرانی قانون کے تحت سزائے موت تک کا جرم ہے۔ عدلیہ کے سربراہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ مظاہرین کو بغیر کسی قانونی نرمی کے سخت ترین سزا دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈا پور جس کنٹینر سے اسلام آباد پہنچے، وہ اب کہاں ہے؟ حیران کن انکشاف
امریکی صدر کی مداخلت کی دھمکی
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران کو براہِ راست دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکہ جواب دے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ممکنہ کارروائی کا مطلب زمینی فوج اتارنا نہیں بلکہ ایران کو وہاں نشانہ بنانا ہوگا جہاں اسے سب سے زیادہ تکلیف ہو۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی عوام ایسے شہروں پر قابض ہو رہے ہیں جن کا تصور چند ہفتے پہلے ممکن نہیں تھا، اور ایرانی قیادت کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے فائرنگ شروع کی تو امریکہ بھی جواب دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال سے امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کی ملاقات
انٹرنیٹ کی بندش اور پریشانی
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی سوشل میڈیا پر ایرانی عوام کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ایران میں احتجاج کے بڑھنے کے ساتھ ہی حکومت نے جمعرات کی رات ملک بھر میں انٹرنیٹ بند کر دیا، جو ابھی تک بند ہے۔ نگرانی کرنے والی تنظیم نیٹ بلاکس کے مطابق اس بندش نے عوام کے لیے ایک دوسرے کی خیریت جاننا بھی انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یو اے ای میں شہری کی ساڑھے 7ارب روپے سے زائد کی لاٹری نکل آئی
حقائق کی رسائی میں مشکلات
انٹرنیٹ کی بندش اور سخت سنسرشپ کے باعث زمینی حقائق تک رسائی محدود ہے، مگر مختلف رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد 217 بتائی جا رہی ہے لیکن ایرانی حکام اب تک صرف چند اموات کا اعتراف کر رہے ہیں۔
صحافیوں کا نقطہ نظر
ایران کے امور پر گہری نظر رکھنے والے صحافی اور ایران وائر کے مدیر، جو خود 2009 کے احتجاج کے دوران ایرانی جیلوں میں قید رہ چکے ہیں، کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی دھمکیوں نے ایرانی حکام کو واقعی خوفزدہ کیا ہے اور ممکن ہے اس نے ان کے ردِعمل پر کچھ اثر ڈالا ہو۔ تاہم ساتھ ہی یہی بیانات مظاہرین کے لیے حوصلہ افزا بھی بنے ہیں، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔








