برطانوی انٹیلیجنس کی خالصتانی رہنما پرم جیت سنگھ پما کو بھارتی ایجنٹوں سے جان کے خطرے کی وارننگ
خالصتان ریفرنڈم مہم کے رہنما کو خطرات کا سامنا
لندن (مجتبیٰ علی شاہ سے) خالصتان ریفرنڈم مہم کے یوکے اور یورپ کے کوآرڈینیٹر اور سرگرم خالصتانی رہنما پرم جیت سنگھ پما کو برطانوی خفیہ ایجنسی نے بھارتی ریاستی ایجنٹوں سے سنگین جان کے خطرات سے آگاہ کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ وارننگ برطانیہ کی اعلیٰ انٹیلیجنس ایجنسی ایم آئی فائیو کی جانب سے دی گئی ہے، جس کے بعد مسٹر پما کو سخت حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور افغان طالبان جنگ بندی جاری رکھنے پر متفق، مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ جاری
حفاظتی اقدامات اور رہائش کی صورتحال
گارڈین اخبار کے مطابق خطرے کی نوعیت اس قدر سنجیدہ ہے کہ پرم جیت سنگھ پما اب لندن کے علاقے ساوتھ آل میں واقع اپنے گھر میں بھی مقیم نہیں ہیں اور انہیں اپنی موجودہ رہائش گاہ کا مقام کسی کے ساتھ شیئر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ مسٹر پما مقتول خالصتانی رہنما ہردیپ سنگھ نجر اور سکھ فار جسٹس کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شادی کے سوال پر بلاول بھٹو کا دلچسپ جواب
احتجاجی مظاہروں میں شرکت
پرم جیت سنگھ پما باقاعدگی سے لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ حال ہی میں بنگلہ دیشی ہائی کمیشن کے سامنے بھارتی مظاہرے کے جواب میں ہونے والے احتجاج کے دوران ان کی مودی کے حامی افراد سے تلخ کلامی بھی ہوئی تھی۔ مسٹر پما کا کہنا ہے کہ وہ ایک طویل عرصے سے برطانوی پولیس کو ملنے والی دھمکیوں کے بارے میں آگاہ کرتے آ رہے تھے، تاہم ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے بعد پولیس نے ان خطرات کو سنجیدگی سے لینا شروع کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ناران کو سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا
ہردیپ سنگھ نجر کا قتل
یاد رہے کہ 2023 میں کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے بعد اس وقت کے کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اس قتل کا الزام براہِ راست بھارتی ایجنسیوں پر عائد کیا تھا۔ اسی برس امریکا میں بھی ایک بھارتی سرکاری ایجنٹ پر سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کی سازش کا الزام سامنے آیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: 1971ء کی جنگ میں دشمن کو دھول چٹانے والے میجر شبیر شریف کا 54 واں یوم شہادت، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خراج عقیدت
برطانوی حکومت کا بیانیہ
برطانوی ہوم آفس نے اس معاملے پر انفرادی کیسز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانوی سکھ کمیونٹی نے ملک کی مضبوطی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور سکھوں کی حفاظت دیگر برطانوی شہریوں کی طرح حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ دوسری جانب بھارتی ہائی کمیشن نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا غیر امریکی فلموں پر 100 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان
بھارتی حکومت کے الزامات
بھارتی حکومت مسٹر پما کا نام 1985 میں شدت پسندوں کے ہاتھوں تباہ ہونے والی ایئر انڈیا کی پرواز 182 کے واقعے سے بھی جوڑتی رہی ہے، تاہم پرم جیت سنگھ پما نے ان الزامات کو بے بنیاد اور پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں اور کسی بھی غیرجانبدار تحقیقات کا خیرمقدم کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی کو ہرجانہ کیس میں 10 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم
پرسنل تجربات
مسٹر پما کے مطابق ان کے بڑے بھائی کو 1991 میں خالصتانی سرگرمیوں میں مبینہ شرکت کے الزام میں قتل کر دیا گیا تھا، جبکہ خود وہ متعدد مرتبہ بھارتی پولیس کے تشدد کا نشانہ بنے۔ انہی حالات کے باعث انہوں نے 2000 میں برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کی۔ 2015 میں پرتگال میں تعطیلات کے دوران انہیں گرفتار کیا گیا، تاہم عدالت نے بھارت کی جانب سے مقدمہ چلانے کی درخواست مسترد کر دی تھی.
پیشکش اور برطانوی انٹیلیجنس
پرم جیت سنگھ پما نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ 2015 میں ایک سینئر بھارتی سفارتکار سمنت کمار گوئل نے ان سے ملاقات کر کے مالی فوائد کے بدلے خالصتان تحریک سے دستبردار ہونے کی پیشکش کی تھی، جس کی اطلاع انہوں نے فوری طور پر برطانوی انٹیلیجنس اداروں کو دے دی تھی.








