بھیک مانگنا منظم کاروبار اور باقاعدہ پروفیشن بن چکا ہے، خواجہ آصف
سیالکوٹ میں بھیک مانگنے کا کاروبار
سیالکوٹ (آئی این پی) وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بھیک مانگنا اب ایک منظم کاروبار اور باقاعدہ پیشہ بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کیلئے 20کروڑ ڈالر قرض کی منطوری دیدی
معاشرتی مسائل اور بھیک مانگنے کا مافیہ
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیر دفاع نے واضح کیا کہ اس کاروبار کے ٹھیکیدار بچوں، عورتوں، اور جعلی معذوروں کے ذریعے کروڑوں روپے کما رہے ہیں۔ یہ مافیا ہزاروں بھیک مانگنے والوں کو گلف ممالک میں ایکسپورٹ کر رہا ہے، جس کی وجہ سے ان ممالک نے پاکستان کے ویزے بند کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جوبائیڈن نے ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے سے قبل کونسا کام کرنے کا فیصلہ کر لیا ؟ بڑی خبر
ایئرپورٹس اور انتظامی کردار
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ اس گھنائونے کاروبار میں ایئرپورٹس پر تعینات مختلف محکموں کے عملے کا بھی برابر کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران سے جنگ کو عوامی مقبولیت نہ ملنے پر صدر ٹرمپ نے نیوز میڈیا پر دباؤ بڑھا دیا : سی این این
جنوبی پنجاب سے آنے والے افراد
ان کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ میں زیادہ تر لوگ جنوبی پنجاب سے آ کر ہوٹلوں میں قیام کرتے ہیں اور بھیک مانگنے لگتے ہیں۔ حالانکہ انتظامیہ اور پولیس کی کارروائیوں کی وجہ سے اس کاروبار میں کمی آئی ہے، مگر ابھی بھی ان کی موجودگی محسوس کی جا رہی ہے۔
ٹھیکیدار کا کردار
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ سیالکوٹ میں بظاہر خوشحال ٹھیکیدار گداگروں کے لیے سفارشی بن کر سامنے آتے ہیں، اور یہ کاروبار انتظامیہ اور پولیس کی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں۔








