بھیک مانگنا منظم کاروبار اور باقاعدہ پروفیشن بن چکا ہے، خواجہ آصف
سیالکوٹ میں بھیک مانگنے کا کاروبار
سیالکوٹ (آئی این پی) وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بھیک مانگنا اب ایک منظم کاروبار اور باقاعدہ پیشہ بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی حکومت پر تنقید: معروف ایرانی عالم غلام رضا قاسمیان گرفتار
معاشرتی مسائل اور بھیک مانگنے کا مافیہ
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیر دفاع نے واضح کیا کہ اس کاروبار کے ٹھیکیدار بچوں، عورتوں، اور جعلی معذوروں کے ذریعے کروڑوں روپے کما رہے ہیں۔ یہ مافیا ہزاروں بھیک مانگنے والوں کو گلف ممالک میں ایکسپورٹ کر رہا ہے، جس کی وجہ سے ان ممالک نے پاکستان کے ویزے بند کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سوئی ناردرن کا مالی سال 2023-24 میں تاریخ کا بلند ترین منافع اور حصہ داران کے لیے 75 فیصد غیرمعمولی ڈیویڈنڈ کا اعلان
ایئرپورٹس اور انتظامی کردار
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ اس گھنائونے کاروبار میں ایئرپورٹس پر تعینات مختلف محکموں کے عملے کا بھی برابر کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیلنج در لاہور ہائی کورٹ: لاہور میں دفعہ 144 کا نفاذ
جنوبی پنجاب سے آنے والے افراد
ان کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ میں زیادہ تر لوگ جنوبی پنجاب سے آ کر ہوٹلوں میں قیام کرتے ہیں اور بھیک مانگنے لگتے ہیں۔ حالانکہ انتظامیہ اور پولیس کی کارروائیوں کی وجہ سے اس کاروبار میں کمی آئی ہے، مگر ابھی بھی ان کی موجودگی محسوس کی جا رہی ہے۔
ٹھیکیدار کا کردار
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ سیالکوٹ میں بظاہر خوشحال ٹھیکیدار گداگروں کے لیے سفارشی بن کر سامنے آتے ہیں، اور یہ کاروبار انتظامیہ اور پولیس کی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں۔








