راولپنڈی میں شادی شدہ خاتون کے اپنے سسر اور دیور پر ہراسانی کے سنگین الزامات، پولیس نے مقدمہ درج کرلیا
خواتین کے خلاف الزامات
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) تھانہ گوجر خان کی حدود میں ایک شادی شدہ خاتون نے اپنے سسر اور دیور پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے پولیس میں مقدمہ درج کروا دیا، جس کے بعد پولیس نے تفتیش شروع کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مودی نے سیاست کے لیے کرکٹ کی سپرٹ تباہ کردی: خواجہ آصف
واقعات کی تفصیلات
ایکسپریس نیوز کے مطابق مدعیہ کا کہنا ہے اس کا شوہر مزدوری کے سلسلے میں باہر رہتا ہے جبکہ وہ اپنے کمسن بیٹے کے ساتھ گھر میں اکیلی ہوتی ہے۔ خاتون نے الزام عائد کیا کہ اس کا دیور نیئر تعظیم، جو برطانیہ سے ایک ریپ کیس میں ڈی پورٹ ہو کر آیا ہے، آئے دن اسے ہراساں کرتا رہتا ہے۔ 2 روز قبل نیئر تعظیم نے اپنے دوستوں کو گھر کی بیٹھک میں بٹھا کر چرس اور شراب نوشی کی، جس پر اس نے اپنی پھوپی کو بلایا جنہوں نے دوستوں کو وہاں سے جانے کا کہا۔ اس پر ملزم طیش میں آ گیا اور گولیاں مارنے کی دھمکیاں دیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا تل ابیب پر ’ہائپر سونک‘ الفتح میزائل داغے جانے کا دعویٰ
مبینہ حملہ
خاتون کے مطابق اگلی صبح جب وہ واش روم گئی تو نیئر تعظیم باہر کھڑا ہو گیا۔ جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا، ملزم نے دھکا دیا، کپڑے پھاڑ دیے اور مبینہ طور پر زبردستی کرنے کی کوشش کی۔ مدعیہ نے بھاگ کر اپنی جان بچائی اور سسر و دیور کی ویڈیو بنا لی جو اس کے بقول اس کے پاس بطور ثبوت موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: Punjab Government Orders Arrest of PTI’s 1590 Workers
پچھلے واقعات
مدعیہ نے مزید الزام لگایا کہ اس سے قبل بھی سسر کی جانب سے ایسی حرکت کی جا چکی ہے جبکہ نیئر تعظیم نے اس کے بیٹے کے ساتھ بھی مبینہ زبردستی کی تھی، تاہم چند بااثر افراد کی مداخلت سے اس وقت راضی نامہ ہو گیا تھا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ ملزم دوبارہ جنسی درندہ بن چکا ہے اور آئے دن ایسی حرکات کرتا رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تعلیمی اداروں میں چھٹی سے متعلق ترجمان محکمہ تعلیم کا بیان آ گیا
پولیس کی کارروائی
واقعے کے بعد مدعیہ نے ون فائیو پر کال کی، پولیس موقع پر پہنچی اور درخواست دینے کی ہدایت کی۔ بعد ازاں تھانہ گوجر خان میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔
تحقیقات کا آغاز
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے، تاہم ابتدائی معلومات کے مطابق فریقین کے درمیان جائیداد کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں، اصل صورتِ حال تفتیش کے بعد واضح ہوگی۔








