سندھ میں سیاسی انتقام عروج پر ہے، 377 پی ٹی آئی ورکرز اور عہدیداران کو غیرقانونی طور پر گرفتار کیا گیا، اسد قیصر
سندھ میں سیاسی انتقام
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے کہ سندھ میں سیاسی انتقام عروج پر ہے۔ 377 پی ٹی آئی ورکرز اور عہدہ داران کو غیرقانونی طور پر گرفتار کیا گیا۔ گھروں پر چھاپے مارے گئے، دروازے توڑے گئے، خواتین سے بدسلوکی کی گئی، اور اگر مطلوبہ شخص نہ ملا تو باپ یا بیٹا اٹھا لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن سندور، بھارت نے احمقانہ مقصد کی بھاری قیمت چکائی، انڈین تجزیہ کار
قانون کی حکمرانی کا سوال
اپنے ایکس بیان میں انہوں نے لکھا کہ کیا یہی قانون کی حکمرانی ہے؟ گزشتہ روز کراچی میں مشعل بردار ریلی سے واپسی پر سابق ایم پی اے راجا آذر اور سابق ایم این اے فہیم خان کو گرفتار کیا گیا اور انہیں کورنگی عوامی تھانے میں مبینہ طور پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ایم پی اے واجد حسین کو بھی تھانے میں تشدد کا سامنا کرنا پڑا، اور انہوں نے آج سندھ اسمبلی میں اپنے زخم دکھا کر اس ظلم کو بے نقاب کیا۔
آزادی اظہار پر حملہ
سوال یہ ہے کہ کیا اختلافِ رائے جرم بن چکا ہے؟ کیا پی ٹی آئی کارکن ہونا ناقابلِ معافی گناہ ہے؟ جمہوریت طاقت کے استعمال سے نہیں، آئین کی بالادستی اور انسانی حقوق کے احترام سے چلتی ہے۔ سندھ میں جاری یہ کریک ڈاؤن بنیادی شہری آزادیوں پر کھلا حملہ ہے جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔
سندھ میں سیاسی انتقام عروج پر ہے۔ 377 پی ٹی آئی ورکرز اور عہدہ داران کو غیرقانونی طور پر گرفتار کیا گیا۔ گھروں پر چھاپے مارے گئے، دروازے توڑے گئے، خواتین سے بدسلوکی کی گئی، اور اگر مطلوبہ شخص نہ ملا تو باپ یا بیٹا اٹھا لیا گیا۔ کیا یہی قانون کی حکمرانی ہے؟
گزشتہ روز کراچی میں…— Asad Qaiser (@AsadQaiserPTI) February 9, 2026








