سانحہ گل پلازہ کیس کی سماعت میں اہم پیشرفت، 4 عینی شاہدین نے بیانات قلمبند کرا دیئے، کیا کچھ کہا۔۔۔؟ جانیے
سانحہ گل پلازہ کیس کی سماعت میں پیشرفت
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سانحہ گل پلازہ کیس کی سماعت میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، جہاں 4 عینی شاہدین نے اپنے بیانات قلمبند کرا دیئے ہیں۔
عدالت میں عینی شاہدین کی گواہی
تفصیلات کے مطابق، جوڈیشل مجسٹریٹ کراچی جنوبی کی عدالت میں سانحہ گل پلازہ کی سماعت ہوئی، جس میں 4 عینی شاہدین نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ عاصم اسلم نے گواہان کے بیانات کو کیس کے ریکارڈ کا حصہ بنا لیا۔ عینی شاہدین میں 3 سیلزمین اور ایک 13 سالہ طالب علم شامل ہے۔
آریان کی گواہی
آریان نے بیان دیا کہ حذیفہ اپنے ابو کی دکان پر ماچس سے کھیل رہا تھا اور اس کے پاس ماچس کے 2 ڈبے تھے۔ آریان کا کہنا تھا کہ وہ وہاں 5 بجے گیا اور ساڑھے 8 بجے تک وہیں رہا۔ اس کے بعد وہ اپنے ابو کی دکان پر گیا جہاں وہ صمد کے ساتھ کھیل رہا تھا۔
آگ لگنے کا واقعہ
آریان نے یہ بھی بتایا کہ 13 سالہ گواہ صمد کا آگ لگنے سے انتقال ہوگیا۔ آریان نے بیان دیا کہ وہ رات 10 بجے حذیفہ کو گڈ بائے کہنے گیا، جہاں حذیفہ ماچس سے کھیل رہا تھا۔ حذیفہ کی ماچس سے کھیلنے کے دوران آگ لگ گئی تھی، حالانکہ دکان والوں نے اسے منع بھی کیا تھا۔
دیگر گواہان کے بیانات
گواہ طلحٰہ نے بیان میں کہا کہ 17 جنوری کو وہ اپنی دکان پر تھے کہ اچانک پھولوں کی دکان میں آگ لگ گئی۔ گواہ نے کہا کہ وہ نے سوچا کہ آگ بجھا دی گئی ہے، مگر آگ کی شدت زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ جان بچانے کے لیے بھاگ گئے۔
گواہ وحید کا کہنا تھا کہ 17 جنوری کو دکان میں بیٹھے تھے کہ بچوں کے لڑنے کی آواز آئی۔ آگ لگنے کا سن کر وہ باہر نکلے اور آگ کی شدت بڑھنے پر پیچھے ہٹ گئے۔
گواہ حمزہ نے بیان دیا کہ 17 جنوری کو وہ حساب کتاب کرنے میں مصروف تھے جب دکان نمبر 193 میں آگ لگی۔ انہوں نے بتایا کہ آگ کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ پانی ڈالنے کے باوجود وہ بجھ نہیں سکی، جس پر وہ باہر کی طرف بھاگے اور اپنی جان بچائی۔








