ہم تاریخ سے ایک بات ہی سیکھتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں سیکھتے، دھبوں میں اضافہ کرتے ہیں مٹاتے نہیں ایک عدالت روز محشر بھی لگنی ہے جہاں کڑا انصاف ہو گا
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 434
اس جمہوریت کے ٹھیکیدار تھے اور ٹھیکیدار کئی بار غلط میٹریل سے بھی عمارت کھڑی کر کے منافع کما ہی لیتا ہے لیکن ہونے والے نقصان کا درست اندازہ نہیں کر سکتا۔ یہاں بھی کردار ٹھکیدار جیسا ہی ہے۔ نہ سقوط ڈھاکہ سے کوئی سبق سیکھا اور نہ ہی سیاست میں کئی گئی دخل اندازی سے اپنی روش بدلی۔ آنکھیں بند کر دینے سے سچ یا خطرہ ٹلتا نہیں ہے۔
عدالتوں کا کردار
جمہوریت کی طرح ہماری عدالتی تاریخ پر بھی ہر گز فخر نہیں کیا جا سکتا۔ نظریۂ ضرورت قانون نہیں لیکن ہماری عدالتی تاریخ کی ایسی اصطلاح ہے جو یہیں ایجاد ہوئی "ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔" ہم ایسی کئی "ماؤں" کے ستائے ہیں۔ مولوی تمیز الدین کے کیس سے شروع ہونے والی یہ بد نما تاریخ کچھ عرصہ بعد نئی شکل میں دھرائی جاتی رہی۔ بھٹو کی پھانسی بھی ایسا ہی فیصلہ تھا جس پر اس ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے خود اپنا چہرہ کالا کر لیا۔ ملکی تاریخ کا تاریک ترین فیصلہ۔
ماضی کے فیصلوں کا اثر
ایسے فیصلے کبھی چمک کے تحت ہوئے، کبھی دباؤ میں آ کر ضمیر فروشی ہوئی اور کبھی کسی نظریۂ ضرورت کے تحت۔ کئی دھائیاں گزرنے کے باوجود بھی آج بھی عدلیہ کی منصفی پر سوالیہ نشان ہیں۔ ماضی قریب میں چند فیصلوں سے جیسے رو گردانی کی گئی وہ بھی اس ملک کی سیاسی اور آئینی تاریخ کا بدنما دھبہ ہے۔ ہم دھبوں میں اضافہ کرتے ہیں مٹاتے نہیں۔
آخرت کا انصاف
فیصلے جب ہنکی اور بندوق کی نالی سے کرائے جائیں گے تو پھر ایسا ہی منظر نامہ دیکھنے کو ملے گا۔ سیاہ کالک زدہ۔ جج صاحبان کو یاد رکھنا چاہیے کہ ایک عدالت روز محشر بھی لگنی ہے جہاں جزا و سزا صرف اور صرف اللہ کا کڑا انصاف ہوگا۔ وہاں کا م آئے گی نہ دھن دولت اور نہ ہی کوئی سفارش۔ صرف آپ کے اعمال ہی آپ کی سفارش ہوں گے۔ قرآن میں ہے؛
ترجمہ "یقیناً اللہ عدل کرنے والوں کے ساتھ ہے اور محبت کرتا ہے۔" (المائدہ 5:42)
سیاسی منظرنامہ
بھٹو کی موت کے چھیالیس (46) برس بعد پاکستانی سیاست کے سارے مہرے اور اسٹبلشمنٹ کی بچھائی بساط پر ایک ایسے اکیلے شخص کا مقابلہ کرتے کرتے "ہپ" گئے ہیں جو بقول ان کے سیاست کی الف بے سے واقف نہیں۔ عقل، ذہانت، پاپولیرٹی میں اس کا مقابلہ نہ کر سکے تو سیاست کی کرپٹ اشرافیہ کے ساتھ مل کر کرپشن سے کمائے دھن سے اپنے من کا زورلگا کر نہ صرف اس کے خلاف اکٹھے ہوئے بلکہ اسے راستے سے ہٹانے کے در پہ بھی رہے۔
انسانیت کے خلاف ظلم
گرانے اور ہارنے کی بھرپور کوشش میں ہر حد کو پار کر گئے۔ جہاں نہ ماں، بہن، بیٹی، بیوی بھی ایسی اذیت سے گزری جس کا تصور ماضی کی تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ یہ ظلم اپنے ہی ملک کی عوام سے روا رکھا گیا۔ جرم ایک ہی تھا کہ ان کی سوچ اور تھی۔ مؤرخ جب اس دور کی تاریخ لکھے گا تو شاید یہ فقرہ بھی اس میں شامل ہو؛
"ہم تاریخ سے ایک بات ہی سیکھتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں سیکھتے۔" (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








