چین نے 2 نسلوں تک کسی کو اندر آنے دیا نہ باہر جانے دیا، اس دوران اپنا معاشی فلسفہ مکمل کیا اور عروج پر پہنچ گئے، یہ سب بغیر بیرونی امداد کے کیا
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 302
ایئر مارشل (ر) خورشید انور
سید فراست علی کی تقریر میں نشاندہی درست ہے لیکن یہ سب کیسے ہو گا؟ یہ سوال تشنہ ہے۔ ہم پر صرف ایک کلاس حکومت کر رہی ہے۔ عوام کی اکثریت غریب ہے اور کم تعلیم یافتہ بھی۔ عوام حکومتی طاقتور حلقوں کی طاقت کو کیسے توڑ سکتے ہیں؟ میرے خیال میں صرف مڈل کلاس انقلاب لا سکتی ہے، اس کی بیداری ضروری ہے اور صرف مڈل کلاس ہی نجات دہندہ ثابت ہو سکتی ہے۔ قائد اعظم اور گاندھی مڈل کلاس سے تعلق رکھتے تھے۔ سینٹ میں 50 فیصد ارکان صحیح معنوں میں ٹیکنو کریٹ ہونے چاہئیں۔ امریکہ میں صدر عوام منتخب کرتے ہیں لیکن حکومتی نظام ٹیکنو کریٹ کابینہ چلاتی ہے۔ اسے ملتا جلتا جمہوری صدارتی نظام پاکستان میں ہونا چاہیے۔
جنرل راحت لطیف کی رائے
جنرل راحت لطیف نے کہا کہ فراست صاحب کی تقریر فکر افروز ہے۔ ہمارا ستیا ناس بیرونی امداد کی وجہ سے ہوا ہے۔ اس بیرونی امداد نے ہمیں محنت سے محروم کر دیا ہے۔ ہمیں امداد سے نجات حاصل کرنی چاہیے۔ چین نے 2 نسلوں تک نہ کسی کو اندر آنے دیا نہ باہر جانے دیا اور اس دوران انہوں نے اپنا معاشی فلسفہ مکمل کیا اور عروج پر پہنچ گئے۔ یہ سب بغیر بیرونی امداد کے کیا۔ امریکہ کی پالیسی ہے۔ ہمارے موجودہ لیڈروں کی دولت باہر ہے، وہ امریکہ سے ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کی دولت Freez نہ ہو جائے۔ بیرونی امداد دراصل قرضے ہیں جن کے ذریعے دراصل لیڈروں کو خرید لیا جاتا ہے۔ جب تک بیرونی قرضوں / نام نہاد امداد سے جان نہیں چھڑائی جائے گی، انقلاب اور محنت کا آغاز نہیں ہو سکتا۔
سکواڈرن لیڈر (ر) فاروق حیات کے خیالات
- تعلیم ذہنوں کو تبدیل کرتی ہے اور انقلاب کا سبب بنتی ہے۔ ہم نے "تعلیم" کی اہمیت کو ترجیح نہیں دی۔
- طبقاتی تقسیم کو فراست صاحب نے بہت اچھا بیان کیا۔ جب تک تعلیم میں طبقاتی درجات ختم نہیں کرتے، تب تک معاشرے میں طبقاتی تقسیم کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔
چوہدری محمد اکرام کا مشورہ
اقتصادی ترقی کے حوالے سے انڈونیشیا اور ملائیشیا اقتصادی نظام کا مطالعہ کرنا چاہیے اور سیاست دانوں کے وراثتی اور قبضہ گروپوں کو ختم کرنا چاہیے۔
مسز شاہینہ کی رائے
مسز شاہینہ نے کہا کہ پاکستان کی محافظ دراصل فوج ہے۔ Image خراب کیا جا رہا ہے، اس سلسلے میں بھی ضروری قدم اٹھایا جانا چاہیے اور قوم کو صحیح سمت میں شعور دیا جانا چاہیے۔
آغا نوروز کا سوال
آغا نوروز، لکھاری اور سیاسی کارکن نے سوال کیا کہ انقلاب لانے کی پرچی، تعلیم کا فروغ، معیشت کا ہتھیار، غربت کی انتہا… کیا چیز بنیادی کام کرتی ہے؟ یہ سوال بھی قابل غور ہے کہ سیاسی جماعتوں کو سول سوسائٹی کے سامنے جوابدہ کیسے بنایا جا سکتا ہے؟
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








