مجھے ہی آگے بڑھ کر دو مسکراہٹوں کے ملاپ کا چارہ کرنا تھا،امی جان کا اصرار تھا کہ کھانا تیار ہے انہوں نے ایک نہ سنی اور مسکان کیساتھ ہاتھ ہلا کر چل دیں
لیکچر: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 53
پہلا منظر: پُھلجڑی سے آگے
ایف ایس سی کے امتحان سے فارغ ہو کر گھر آئے ہوئے چند دن ہی ہوئے تھے کہ گھر کے کھلے احاطے کا دَر کھلا، ایک بیس بائیس سالہ حُسنِ مجسِّم رعنائیاں بکھیرتے جلوہ افروز تھی۔ میری امی جان تو کھلے آنگن میں نان و نفقہ کی تیاری میں محو، مجھے ہی آگے بڑھ کر دو مسکراہٹوں کے ملاپ کا چارہ کرنا تھا۔ دوشیزہ نے امی جان کے پاس آکر اپنے سر کو جھکایا اور دونوں ہاتھوں سے دئیے پیار کا لمس محسوس کرتے اندر دو کمروں کے مکان کی جانب چل دی۔
”گویا تھیں آپ کا گھر کیسا ہے؟“ ماں تو فارغ نہ تھی کہ اِن مشاہدوں کا ساتھ دیتیں، مجھے خود ہی اس فرض کی ادائیگی کے لیے آگے بڑھنا پڑا۔ گھر کے اندر جا کر ”مشاہدہ“ کو تو ہوا میں اُڑا دیا۔ اچانک امی جی کی آواز نے جو طلسم توڑا تو گرفت ڈھیلی پڑی اور دونوں چپکے چپکے صحن کی جانب چل دئیے۔
دوسرا منظر: محبت کی خواہش
امّی جان کے پاس آکر پھر اُس نے اپنا سر نیوڑایا اور پیار کی متمنّی ہوئیں۔ امی جان کا اصرار تھا کہ کھانا تیار ہے، انہوں نے ایک نہ سنی اور یہ کہتے ہوئے کہ وہ تو کب کا کھانا کھا چکی ہے باہر صحن کو بڑی سرعت سے عبور کر کے باہر کے کواڑ کھول کر ایک دم اندر جھانکا اور ایک مسکان کے ساتھ ہاتھ ہلا کر چل دیں۔
اگلے دن اپنے ہم عصر رشتہ دار لڑکے سے جو سرِ راہ ملاقات ہوئی تو مجھے پکڑ کر ایک کونے میں لے جا کر رازدارانہ انداز میں پوچھنے لگا کہ دیکھو تم بھی ماشا اللہ اچھے پڑھے لکھے نوجوان ہو اور وہ بھی ایک کھلے رنگ و رُوپ کی دوشیزہ ہے، گو پڑھی لکھی نہیں لیکن خوب جوڑ رہے گا۔ میں فوراً ساری صورتِ حال کو بھانپ گیا۔ میری زبان پر تھا کہ یہ فیصلے تو بڑوں نے کرنے ہوتے ہیں۔ میرے اِس جواب سے غالباً وہ یہ نتیجہ نکال کر کہ میرا ردِّ عمل مثبت ہی ہے، چل دیا۔
تیسرا منظر: خواب اور حقیقت
میرا رشتہ دار لڑکا جو پڑھا لکھا نہیں تھا، اُس کے دل میں آئی جو ایک خواہش تھی اور اُس کے خیال میں مناسب تھی، لیکن اِدھر پڑھے لکھے والد کے ابھی زیر تعلیم لڑکے کی شادی ایک سہانا خواب ہی ہوسکتا تھا لہٰذا خواب ہی رہا۔ لڑکی والوں کو تو اس ملاپ کا کہاں پتہ چلتا کہ یہ تو ایک رشتے کے بھائی کی خواہش کی کارفرمائی تھی۔ ہم اپنے تعلیمی سفر میں آگے بڑھ گئے اور فریق دوئم مروجہ رسم و رواج کے مطابق پیاگھر سدھار گئیں اور ایک بھرپور ازدواجی زندگی گزارنے لگیں۔
چوتھا منظر: شاہ صاحب زندہ باد
1951ء کی بات ہے ”لائل پور“ اب فیصل آباد کے گورنمنٹ کالج کے نیو ہوسٹل کی ”ڈار میٹری“ میں کھڑکی کے پاس بیٹھا دیکھتا ہوں کہ نیو ہوسٹل کے مین گیٹ کے آگے ایک ”دلہن نما“ ٹانگہ آکر ٹھہرتا ہے۔ ظاہر ہے چہرہ شناسی تو پھر فرض ٹھہری، وہاں پہنچتے پہنچتے وہاں موجود دو تین خدّام سارا سامان آنے والے مہمان کے کمرے میں پہنچا چکے تھے اور ٹانگہ پھر سرپٹ دوڑتا نظر آیا۔ ”نہ خُدا ہی ملا نہ وصالِ صنم“ کے مصداق مایوس سا ہو کر واپس کمرے میں آکر لیٹ گیا۔
(جاری ہے)








