عراقی حکومت نے سابق صدر صدام حسین کے ساتھی کو پھانسی دے دی
عراق میں سابق صدر کے ساتھی کی سزا
بغداد (ڈیلی پاکستان آن لائن): عراقی حکومت نے سابق صدر صدام حسین کے ساتھی میجر جنرل سعدون صبری جمیل القیسی کو پھانسی دے دی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق، سعدون القیسی صدام کے دور میں میجر جنرل تھے اور انہیں گزشتہ سال گرفتار کیا گیا تھا۔
جرائم اور الزامات
عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، سعدون القیسی انسانیت سوز جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ 1980 میں ممتاز عراقی عالم محمد باقر الصدر اور ان کی بہن بنت الہدٰی کے قتل میں شریک تھے۔ اس کے علاوہ ان پر دیگر عام شہریوں کے قتل میں ملوث ہونے کا بھی الزام ہے۔
عدالتی کاروائی
عراقی حکام کا کہنا ہے کہ میجر جنرل سعدون القیسی کو منصفانہ عدالتی کارروائی کے بعد پیر کے روز پھانسی دی گئی۔ وہ 2003 میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام میں فرار ہو گئے تھے، لیکن فروری 2023 میں وہ عراق کے شہر اربیل پہنچے، جہاں انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔
عہدے اور خدمات
القیسی صدام حسین کے دور میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے، جن میں ریاستی سلامتی کے ڈائریکٹر اور ساحلی شہر بصرہ اور نجف میں ڈائریکٹر آف سکیورٹی کے عہدے شامل ہیں۔








