بنگلہ دیش میں الیکشن کے دن سے قبل ہائی الرٹ، فوج تعینات، موٹر سائیکل پر پابندی
بنگلادیش میں عام انتخابات کے سکیورٹی انتظامات
ڈھاکہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) بنگلادیش میں عام انتخابات کے سلسلے میں ملک بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کر لیے گئے ہیں اور فوج کو تعینات کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: درجن ملک شامل تھے، اسحاق ڈار نے پردے کے پیچھے کی کہانی سنادی
انتخابی مہم کا اختتام
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عام انتخابات جمعرات کو ہوں گے، جس کے لیے ڈھاکا سمیت تمام بڑے اور چھوٹے شہروں میں انتخابی مہم کا آخری روز مکمل ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل اکیلا ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو موخر نہیں کر سکتا، اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نے مکمل جنگ کو مسئلے کا حل قرار دے دیا۔
موٹر سائیکل چلانے پر پابندی
انتخابی عمل کو پُرامن بنانے کے لیے حکومت نے رات 12 بجے سے تین روز کے لیے ملک بھر میں موٹر سائیکل چلانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ سکیورٹی ادارے پولنگ اسٹیشنز اور حساس علاقوں میں الرٹ رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں اپوزیشن کی نااہلی کا ریفرنس، مذاکرات کا دوسرا دور اتوار کو ہوگا
سیاسی جماعتوں کی تعداد
300 رکنی قومی پارلیمان کی نشستوں کے لیے بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی، بنگلادیش جماعتِ اسلامی، نیشنل سٹیزن پارٹی اور جماعتی پارٹی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے ایک ہزار 981 امیدوار میدان میں ہیں۔ حکومت بنانے کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 300 میں سے کم از کم 151 نشستیں حاصل کرنا ہوں گی。
یہ بھی پڑھیں: گھر چھوڑ کر جانے والے نوجوان کو موٹروے پولیس نے بس سے اتار کر خاندان کے حوالے کر دیا
سابق وزیر اعظم کا استعفیٰ
یہ انتخابات اگست 2024 میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے استعفیٰ اور ملک چھوڑنے کے بعد پہلی بار ہو رہے ہیں۔ اس کے بعد نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس نے عبوری حکومت کے سربراہ کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔
سروے کے نتائج
دوسری جانب ایک تازہ عوامی سروے کے مطابق انتخابات میں سخت مقابلے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کی قیادت میں اتحاد کو 44.1 فیصد جبکہ بنگلادیش جماعتِ اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتوں پر مشتمل اتحاد کو 43.9 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ہے۔








