نیپرا نے نیشنل گرڈ کو بجلی فروخت کرنے کے ریٹس کم کر دیے
نیپرا کا نیشنل گرڈ کو بجلی کی فروخت کے ریٹس میں کمی
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیشنل گرڈ کو بجلی فروخت کرنے کے ریٹس کم کر دیے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں زلزے کے جھٹکے
نئے ریگولیشنز کی تفصیلات
رپورٹ کے مطابق نئے ریگولیشنز 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ نئے ریگولیشنز کے تحت پرانے سولر صارفین اپنی بجلی نیشنل گرڈ کو 25 روپے 32 پیسے فی یونٹ کے پرانے ریٹس پر بیچیں گے۔ تاہم، نئے صارفین کے لیے نیشنل گرڈ کو بیچی گئی بجلی کے فی یونٹ ریٹ میں 17 روپے 19 پیسے کی بڑی کمی کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں چین نے انتہائی اہم کردار ادا کیا: وزیر اعظم
نئے صارفین کے لئے کم قیمت
اب نئے صارف کو اس کی فی یونٹ قیمت 3 گنا سے بھی کم یعنی 8 روپے 13 پیسے ملے گی۔ نئے اور پرانے صارفین کے لیے نیٹ بلنگ کا بھی نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے مطابق صارف کا یونٹ اب سرکاری یونٹ کے برابر نہیں ہو گا۔ نیشنل گرڈ سے لی گئی ساری بجلی کی فی یونٹ قیمت حکومتی ٹیرف اور سلیبس کے حساب سے ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: شکارپور: انڈس ہائی وے پر مسلح ملزمان کی کار پر فائرنگ، 4 افراد جاں بحق
لائسنس کی مدت میں تبدیلی
نئے نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے لائسنس کی مدت 7 سال سے کم کر کے 5 سال کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بابا صدیقی کو گولی مارنے والا شوٹر گرفتار، گینگ سے رابطہ کس طرح ہوا؟ دوران تفتیش انکشافات
نیٹ میٹرنگ سولر سسٹمز کی موجودہ صورتحال
پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کے مطابق ملک میں اس وقت 7 ہزار میگاواٹ کی صلاحیت کے نیٹ میٹرنگ سولر سسٹم لگ چکے ہیں۔ جبکہ 13 ہزار سے 14 ہزار میگاواٹ صلاحیت کے صارفین کا تخمینہ ہے جو آف گرڈ بجلی بناتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: محمد نام مقبول ترین ناموں میں سرفہرست
آف گرڈ سولر کی بڑھتی ہوئی مقبولیت
ماہرین کے مطابق نئے ریگولیشنز کے بعد آف گرڈ سولر لگانے کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔ ملک میں سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کی کل تعداد 4 لاکھ 66 ہزار ہے۔ پاور ڈویژن کی پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں نیٹ میٹرنگ سولر صارفین کا 82 فیصد بڑے شہروں میں موجود ہے۔
صارفین کی تفصیلات
لاہور میں 24 فیصد، ملتان میں 11 فیصد، راولپنڈی میں 9 فیصد، کراچی میں 7 فیصد اور فیصل آباد میں 6 فیصد سولر صارفین ہیں۔








