آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم پر توہین عدالت کا الزام، وضاحت طلب
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) آئی جی پنجاب پر عدالتی حکم عدولی کا الزام سے متعلق درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے راؤ عبد الکریم کو نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کرلی۔
یہ بھی پڑھیں: بزرگ میاں بیوی کو بیٹے کی گھر میں موجود لاش کا چار دن تک پتہ نہ چل سکا
توہینِ عدالت کی درخواست
نجی ٹی وی چینل سٹی 42 کے مطابق آئی جی پنجاب راؤ عبد الکریم کے خلاف پہلی توہینِ عدالت کی درخواست ہے۔ جسٹس شاہد کریم نے سابق کانسٹبلان محمد عاطف اور جمشید اقبال کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم سیکرٹریٹ، پارلیمنٹ لاجز، چیئرمین سینیٹ آفس سمیت اربوں روپے کے بجلی بل نادہندگان میں شامل
درخواست گزاروں کا مؤقف
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ 9 اگست 2024 کو پولیس کانسٹبل بھرتی ہوئے۔ 21 مئی 2025 کو کانسٹبل کی بھرتی کا آرڈر واپس لے لیا گیا۔ سی سی پی او، آئی جی پولیس کو داد رسی کیلئے اپیلیں کیں مگر شنوائی نہ ہوئی۔ درخواست گزاروں کے مطابق پولیس افسران سے داد رسی نہ ہونے پر عدالت سے رجوع کیا۔
یہ بھی پڑھیں: لیپ ٹاپ کے خواہشمند طلباء کے لیے انتظار کی گھڑیاں ختم، تقسیم آج سے شروع ہوگی
عدالتی حکم کی عدم تعمیل
لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب کو زیرالتوا درخواست پر فیصلے کا حکم دیا۔ 21 اکتوبر 2025 کو عدالت نے آئی جی کو زیرالتوا درخواست پر تین ہفتوں میں فیصلے کا حکم دیا۔ آئی جی پنجاب نے عدالتی حکم پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا۔ عدالتی حکم پر عمل نہ ہونا صریحاً عدالتی حکم عدولی کے زمرے میں آتا ہے۔
توہینِ عدالت کی کارروائی کی استدعا
درخواست میں استدعا کی گئی کہ آئی جی پنجاب راؤ عبد الکریم کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے۔








