اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا ظاہر کرنے کے احکامات معطل کر دیئے
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا ظاہر کرنے سے متعلق پاکستان انفارمیشن کمیشن کے احکامات معطل کردیئے۔ عدالت نے قرار دیا کہ مالیاتی راز داری، معلومات کے حق پر فوقیت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کچھ تو سوچ سمجھ کر بات کریں، کبھی تو کچھ بخش دیا کریں،ہم تو ایسے لوگ ہیں کہ نہ شرمندہ ہوتے ہیں نہ ہی کچھ چھوڑتے ہیں،اُس کی کہی بات کڑوا سچ ہے
ایف بی آر کا چیلنج
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق ایف بی آر نے پی آئی سی کی جانب سے ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا فراہم کرنے کے آرڈرز کو چیلنج کیا تھا۔ اس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے ایف بی آر کے پی آئی سی آرڈرز پر حکم امتناع جاری کیا اور قرار دیا کہ حق معلومات ایکٹ کے تحت بھی ٹیکس ریکارڈ ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی وزیرستان: امن کمیٹی دفتر کے قریب دھماکے کے 3 زخمی دم توڑگئے، اموات 12 ہوگئیں
پاکستان انفارمیشن کمیشن کے احکامات
پاکستان انفارمیشن کمیشن نے ایف بی آر کو 8 جنوری 2026 اور 3 دسمبر 2025 کو احکامات جاری کیے تھے۔ سماعت کے دوران ایف بی آر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان انفارمیشن کمیشن نے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ہے۔
قانونی پابندیاں
ٹیکس دہندگان کی معلومات افشا کرنے پر مکمل قانونی پابندی ہے۔ انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 216 دوسرے تمام قوانین پر بالادست ہے۔ ٹیکس دہندگان کی شناخت ظاہر کرنا بھی قانون کی خلاف ورزی ہے۔








