یہ کہانی بنگلہ دیش کی ہے، مگر سوال ہم سب کے لیے ہے۔۔۔اگر جماعت اسلامی اقتدار میں آئی تو ہندو محفوظ نہیں رہیں گے؟
تحریر: سہیل بلخی
ہندو محفوظ نہیں رہیں گے
یہ جملہ چائے کی دکان پر بحث کے دوران زور سے بولا گیا۔
چائے کے کپ کے اوپر بھاپ اٹھ رہی تھی۔
سامنے بیٹھا شخص خاموشی سے مسکرایا…
اور آہستہ سے بولا:
’’میں ہندو ہوں۔
اور میں جماعت سے الیکشن لڑ رہا ہوں۔
اب بتاؤ، میں کہاں جاؤں؟‘‘
کرشنا ناندی کی کہانی
چند لمحوں کے لیے سب خاموش ہو گئے۔
اس شخص کا نام کرشنا ناندی ہے۔
ضلع کھلنا سے تعلق رکھنے والا ایک کامیاب بزنس مین،
اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی ہندو وِنگ کا صدر۔
2026 کے قومی انتخابات میں
جماعت نے اُسے کھلنا کے حلقے سے ٹکٹ دیا —
اور یوں تاریخ میں پہلی بار
جماعتِ اسلامی نے ایک ہندو امیدوار کو قومی اسمبلی کے لیے نامزد کیا۔
میڈیا نے شور مچایا:
’’یہ کیسا تضاد ہے؟ ہندو اور جماعت؟‘‘
تضاد یا حقیقت؟
کرشنا ناندی نے سیدھا جواب دیا:
’’تضاد یہ نہیں کہ میں جماعت میں ہوں,
تضاد یہ ہے کہ جنہوں نے ہمیں لوٹا,
وہ خود کو سیکولر کہتے رہے۔‘‘
وہ کہتا ہے، مسئلہ مذہب نہیں —
مسئلہ قانون کی کمزوری اور ناانصافی ہے۔
’’جہاں قانون مضبوط ہو,
وہاں ہندو بھی محفوظ ہوتا ہے،
مسلمان بھی۔‘‘
یہ کوئی دعویٰ نہیں,
یہ ایک زندہ گواہی ہے۔
بین الاقوامی شہرت
اسی لیے کرشنا ناندی کا مضمون
بین الاقوامی میڈیا میں شائع ہوا,
جس کا عنوان ہی بہت کچھ کہہ دیتا ہے:
’’If Jamaat comes to power, Bangladeshi Hindus will be safe. I am the proof‘‘
(اگر جماعت اقتدار میں آئی تو بنگلہ دیشی ہندو محفوظ ہوں گے — میں اس کا ثبوت ہوں)
وہ مضمون میں صاف لکھتا ہے:
’’اگر جماعت اقلیت دشمن ہوتی,
تو میں امیدوار نہ ہوتا۔
میری موجودگی خود اس جھوٹ کا جواب ہے۔‘‘
حفاظت کا اصل سوال
یہ کہانی بنگلہ دیش کی ہے,
مگر سوال ہم سب کے لیے ہے:
کیا اقلیتوں کا تحفظ نعرے سے ہوتا ہے؟
یا انصاف سے؟
اور چائے کی اس دکان پر بیٹھا کرشنا ناندی
خاموشی سے جواب دے چکا ہے:
’’میں یہاں ہوں —
اور یہی میرا ثبوت ہے۔''
نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں








