سیاست شریف لوگوں کا کام نہیں رہا اور مجھے کہا جاتا ہے مولانا صاحب آپ شریف آدمی ہیں آپ کیوں سیاست کر رہے ہیں، مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان کا حکومت کی قانون سازی پر ردعمل
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومتی اتحادیوں کی جانب سے کی جانے والی قانون سازی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی کی گئی تو اس کو نہیں مانوں گا۔ انہوں نے کہا کہ سیاست شریف لوگوں کا کام نہیں رہا اور مجھے کہا جاتا ہے کہ مولانا صاحب آپ شریف آدمی ہیں، آپ کیوں سیاست کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: گھریلو جھگڑے پر خاتون نے زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کر لی
تقریر میں ملنے والی نئی تعریفیں
اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ جیل بہت معمولی چیز ہے اور پھانسی بھی معمولی ہے، اس سے آگے کوئی چیز ہو تو قبول کریں گے۔ ہمارا مؤقف بہت واضح ہے کہ ایسی قانون کی پیروی مت کرو کیونکہ خالق کی نافرمانی پر مبنی قوانین کی پاسداری جائز نہیں ہے۔ جمعیت علمائے اسلام میں مسلکی امتیاز کے بغیر پورے برصغیر سے علما کرام بلائے گئے تھے، ہماری جماعت نے خلافت اور آزادی کی تحریک چلائی۔
یہ بھی پڑھیں: شیطانی میڈیا اور کلٹ کے خلاف سپہ سالار نے دل جیت لیے
سیاست کے تبدیل ہوتے رنگ
انہوں نے مزید کہا کہ سیاست کا درس یہی رہ گیا ہے کہ دھاندلی کے ساتھ کسی طرح کرسی تک پہنچ جاؤں، جبکہ دھاندلی سے کرسی تک پہنچنے والوں کو زبردست سیاست دان کہا جاتا ہے۔ سیاست شریف لوگوں کا کام نہیں رہی، جبکہ سیاست انبیا کی وراثت ہے اور انبیا کا وظیفہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 70،80سال میں وہ کام نہیں ہوئے،جو آج کیے جارہے ہیں،5 سال بعد بدلا ہوا جدید اورخوبصورت پنجاب نظر آئے گا: وزیر اعلیٰ مریم نواز
قرآن و سنت کے خلاف قوانین
ان کا کہنا تھا کہ جو قانون قرآن و سنت کے خلاف ہو، اُس کو اکثریت سے پاس کیا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ میں کہا گیا کہ فضل الرحمان نے قانون کو چیلنج کیا ہے۔ میں کون ہوتا ہوں کہ قانون کو نہ مانوں، جس قانون میں اللہ کی نافرمانی ہوگی اُس کی اطاعت نہیں کی جا سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا جوابی وار جاری، بیشتر بھارتی ویب سائیٹس ہیک، بی جے پی کی ویب سائیٹ بھی نہ بچی
پیغامِ انصاف
مولانا فضل الرحمان نے اس موقع پر واضح کیا کہ اگر قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی کی گئی تو اس کو نہیں مانوں گا۔ آئین کا تقاضا ہے کہ غلط قانون سازی نہ کی جائے۔ ہم قرآن و سنت کی بالادستی کے لیے ہر سزا خندہ پیشانی سے قبول کریں گے۔
عام مسلمانوں کے لیے نصیحت
انہوں نے عام مسلمانوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایسے قانون کی پیروی مت کرو، جب سے آئین بنا ہے اسلامی نظریاتی کونسل بنی ہے، قانون کو وہاں لے جاؤ۔ ایسی باتوں کو جذباتی یا غصے میں نہیں سمجھنا ہوگا، برائی کے حجم کے مطابق ردعمل آئے گا، اگر ہاتھی کے برابر برا عمل ہوگا تو اتنا ہی ردعمل آئے گا۔








