انسانی ذہن بہت ترقی کر گیا ہے، پرانے کھیل اور فارمولے دھرانے آسان نہیں ہیں، سلام ان پر بھی جو جان تو ہار گئے مگر انہوں نے سچ کا ساتھ نہ چھوڑا

مصنف کی معلومات

مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 435

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی جوابی کارروائی، بھارت نے نقصانات کا اعتراف کرلیا

مقابلہ کی کیفیت

اس بار ان کا مقابلہ نہ ہار ماننے والے ماضی کے عظیم کرکٹر اور آج کے معروف سیاست دان عمران خاں سے ہے۔ بھٹو اس لئے مار کھا گیا کہ میڈیا آزاد نہ تھا۔ مجھے یاد ہے اس دور کے اخبار آدھے سے زیادہ کالے ہوتے تھے یا سارے سفید کہ خبریں مارشل لا کی تیز قینچی کی تاب نہ لا سکتی تھیں۔ آج نیا دور ہے۔ میڈیا، سوشل میڈیا کا دور جہاں زبان بندی ہر ہتھ کنڈے کے بعد بھی ممکن نہیں۔ انسانی ذہن بہت ترقی کر گیا ہے۔ پرانے کھیل اور فارمولے دھرانے آسان نہیں ہیں۔ سلام ان پر بھی جو جان تو ہار گئے مگر انہوں نے سچ کا ساتھ نہ چھوڑا۔

یہ بھی پڑھیں: رینجرز اہلکاروں کو گاڑی تلے کچلنے والے ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع

تاریخی فیصلے

تاریخ کے مسلمہ فیصلے ہیں کہ عوام کے دلوں میں بسے لیڈر کو ہرانا ممکن نہیں۔ ہاں، وقتی ناکامیاں بڑی کامیابی کو روک نہیں سکتی ہیں۔ یونانی فلسفی کے مطابق؛
”جب کسی ملک کے سارے کرپٹ لوگ ساتھ مل کر کسی ایک شخص کے خلاف ہو جائیں۔ اسے ہر لحاظ سے بد نام کریں، اس کی کردار کشی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں تو آنکھیں بند کرکے اس اکیلے شخص کا ساتھ دو۔“
عقل کے آندھوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قدرت کی اپنی منصوبہ بندی ہوتی ہے جسے نہ کوئی سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی شکست دے سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے 2 نئے سفراء کی تعیناتی کی منظوری دے دی

قلعہ اسلام گڑھ

رحیم یار خاں کی جبین پر تعمیر یہ قلعہ کبھی چولستان کی پہچان اور مان تھا۔ قلعہ دار کی شان تھا۔ 300 سال سے زیادہ پرانا قلعہ چولستان کی تاریخ میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں کی سیر کو کئی بار پروگرام بنا مگر ہر بار کوئی سرکاری مصروفیت آڑے آتی رہی۔ ایک روز اعجاز عتیق ٹی ایم او ٹی ایم اے خان پور اور محمد حنیف (یہ پر خلوص اور بھلے مانس انسان سال پہلے اس جہاں فانی سے اپنے ابدی گھر چلا گیا۔ اللہ اس کے درجات بلند کرے۔ آمین۔) سیکرٹری یونین کونسل اسلام گڑھ کی دعوت پر اس قلعہ کو دیکھنے کے لئے رات خاں پور (یہ وہی خاں پور تھا جس کے ہمارے بچپن میں کوٹورے اور پیڑے مشہور تھے۔ اپنے کوٹوروں کی وجہ سے یہ شہر ہی خاں پور کوڑا کہلانے لگا تھا۔) ریسٹ ہاؤس پہنچے۔ رات تاروں بھری تھی جبکہ اگلی صبح سہانی۔ صبح سویرے روانہ ہوئے تو منزل ایک سو چالیس (140) کلومیٹر دور اونچے صحرائی ٹیلوں میں گھری تھی۔ میرے ہمراہی جہانگیر مخلص (بہاول پور کے نامور سرائیکی شاعر اور استاد۔ یہ جتنے خوبصورت شاعر تھے اتنا ہی اچھے انسان بھی۔ مدت ہوئی ان سے دوبارہ ملاقات نہ ہوئی۔) امان اللہ نائب قاصد یونین کونسل اسلام گڑھ بھی ہمراہ تھا۔ یہ بھی بھلے مانس، تابعدار اور چولستان کے چپے چپے سے واقف تھا۔ (اس سے آج بھی کبھی کبھار فون پر بات ہو جاتی ہے۔) وائلڈ لائف کی 2 چیک پوسٹوں ”سوریاں“ اور ”چاہ کلر والا“ (یہ چیک پوسٹ ہرن کے شکار پر نظر رکھنے کے لئے تھیں مگر ”چمک“ دکھا کر آپ ہرن شکار کر سکتے تھے اور آج بھی ایسا ہی ہے۔) خیر، گڑھ قلعہ (اس قلعہ کی عمارت بھی اپنا وجود لگ بھگ وقت کی دھول میں کھو چکی تھی۔) سے گزرتا راستہ جوں جوں اسلام گڑھ کے قریب پہنچ رہا تھا۔ ریت کے ٹیلے اونچے اور نیم چاند کی شکل اختیار کرتے جا رہے تھے۔ چاہ کلر والا سے اگلے بیس (20) کلومیٹر تو ریت کے یہ ٹیلے ڈرائیور اور گاڑی دونوں کا ہی سخت امتحان لیتے تھے۔ الحمداللہ میں اور میری سرکاری ”جمنی“ جیپ اس امتحان میں پورے نمبروں میں پاس ہوئے تھے۔ ایک گھنٹے کے اس مشکل اور تکلیف دہ سفر کے بعد ایک تباہ شدہ برباد عمارت نظر کے سامنے تھی۔ اسلام گڑھ قلعہ۔

نوٹ

نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...