غریب غریب تر ہو رہے ہیں، افسوس غیر جمہوری مزاج اور کرپشن کی وجہ سے درست وژن پر کام نہیں ہو سکا اور معاشرے میں مثبت تبدیلی نہیں آ سکی
مصنف کی تفصیلات
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 303
پروفیسر مشکور صدیقی
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ہمشیرہ عظمٰی خان کو ملاقات کی اجازت مل گئی
پروفیسر مشکور صدیقی کی گفتگو
1: پروفیسر مشکور صدیقی نے کہا کہ کراچی سے خیبر تک پیروں کا جال پھیلا ہوا ہے جن میں جادو ٹْونے والے لوگ بھی شامل ہیں۔ یہ سب لوگ عوام میں جہالت بکھیر رہے ہیں۔ اس "ادارے" کو چیک کرنا ضروری ہے؟
2: 64 سال سے غریب سے غریب تر ہو رہے ہیں اور ایک خاص طبقہ امیر سے امیر تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ کھربوں روپیہ کے قرضے امیروں کو معاف کیے گئے ہیں۔ یہ پاکستان کے عوام کے خون پسینے کی کمائی تھی جو لوٹ لی گئی ہے۔ کوئی این جی او اس تحریک کے لیے آگے آئے۔
یہ بھی پڑھیں: جیل میں نظر بند سابق ایم این اے علی وزیر پر سکھر میں مقدمہ درج
سید فراست علی کے ساتھ ایک شام
تلاوت و نعت: میاں محمد ارشد ایڈووکیٹ
ابتدائی کلمات صدر کونسل: رانا امیر احمد خاں
سید فراست علی کا تعلق کراچی سے ہے۔ آپ امید اور خوشی کی کرن قوم کے دلوں میں پیدا کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ آپ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور پاکستانی فکر کے مالک ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چند وکلاء پرائیویٹ سائلین پر جان لیوا حملہ اور ان پر احاطہ عدالت میں تشدد کریں، یہ وکالت نہیں بدمعاشی ہے،ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق
راقم کے تجربات
راقم 1965-67ء میں ویسٹ پاکستان یوتھ موومنٹ کا سیکرٹری تھا۔ اس تنظیم کے دل و دماغ سید افتخار شبیر تھے جو بعد ازاں آڈیٹر جنرل پاکستان بھی رہے۔ آپ ان کے برادر اِن لاء ہیں۔ میرا گزشتہ 50 سال کا تجربہ یہ ہے کہ غیر سیاسی لوگوں کے لیے بہترین راستہ عوامی فلاح اور سماجی بہبود میں پوشیدہ ہے۔ افسوس کہ پاکستان میں سیاسی لوگوں کی نیتوں کے فتور، غیر جمہوری مزاج اور کرپشن کی وجہ سے درست وژن پر کام نہیں ہو سکا اور معاشرے میں مثبت تبدیلی نہیں آ سکی۔ قائد اعظم کے افکار، قانون کی حکمرانی اور فلاحی معاشرے کا قیام عمل میں نہیں آ سکا۔ سید فراست علی معاشرے میں مثبت تبدیلی کے علمبردار ہیں۔ ان کے دل میں قوم کا درد ہے۔ اس لیے ان کے افکار سچی سوچ کی وجہ سے دلوں میں اتر جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سوات: بحرین اسریتی خوڑ میں پانی کے بہاؤ سے سڑک کو نقصان، ٹریفک کی روانی متاثر
سید فراست علی کی محفل
آج کی محفل میرے لیے ہمت افزاء ہے۔ میں اپنی سوچ آپ لوگوں سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ میں لیکچر دینے کا قائل نہیں ہوں بلکہ دوسروں کا نکتہ نظر جاننا پسند کرتا ہوں۔ ہر شخص پوچھتا ہے کہ ہم قوم کیوں نہیں بن پائے؟ کرپشن کا راج کیوں ہے؟ یہ ملک بحران کا شکار کیوں ہے؟ میرا تجربہ ہے کہ یہ صورت حال صرف پاکستان میں نہیں ہے لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو بے بس اور غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں اور کسی کو یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ہو کیا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فوج کا اپنا آڈٹ و اکاؤنٹس کا شعبہ بہت طاقتور ہے، احتساب اور انصاف کا نظام بہت مضبوط ہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ فوج کی قیمت پر سیاست کریں
چیلنجز اور بین الاقوامی سیاست
دنیا کے بڑے بڑے رسائل اور بااثر اخبار سی آئی اے کے فنڈ استعمال کرتے ہیں اور ان کے مقاصد کو سامنے رکھ کر خبریں اور مضامین شائع کرتے ہیں۔ ہر معاشرے میں یہ مسائل رہے ہیں جو اب پاکستان میں ہیں۔ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے اردگرد جو ممالک ہیں وہ پاکستان کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ غیر ممالک میں کام کر کے مجھے شعور ملا کہ امریکہ دنیا کے معاملات کو کس طرح چلا رہا ہے۔ امریکہ نے 50 سال قبل پلاننگ کی جس پر آج تک عمل کیا جا رہا ہے۔ امریکہ اور عالمی بینک جتنی امداد دیتے ہیں وہ ساری واپس چلی جاتی ہے۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








