نواز شریف کی قیادت، محفوظ بسنت کی ضمانت
بسنت کی خوشیوں کی واپسی
لاہور کی فضاؤں میں بسنت کی خوشیاں ایک بار پھر اپنے رنگ اور روشنی کے جشن کے ساتھ چھا گئیں۔ پتنگیں آسمان کی وسعتوں میں ناچتی رہیں، ہر چھت پر رنگ برنگی ڈوریں ہوا کے جھونکوں کے ساتھ جھومتی رہیں اور ہر طرف خوشیوں کی بازگشت سنائی دی۔ یہ سب میاں محمد نواز شریف کے بولڈ اور بصیرت سے بھرپور فیصلے کی بدولت ممکن ہوا، جنہوں نے بسنت کو دوبارہ عوامی اور ثقافتی سطح پر منانے کی اجازت دی۔
یہ بھی پڑھیں: وائی یو ایم گروپ کے سی ای او نثار چوہدری کی سالگرہ، معروف شخصیات کی بھرپور شرکت
ثقافتی روح کی بحالی
میاں محمد نواز شریف کا یہ فیصلہ نہ صرف بسنت کی ثقافتی روح کو زندہ کرنے والا تھا بلکہ شہریوں کے لیے محفوظ اور خوشگوار ماحول بھی فراہم کرنے والا اقدام ثابت ہوا۔ اس کامیاب منصوبے کے عملی نفاذ کا کریڈٹ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو بھی جاتا ہے، جنہوں نے ہر چھت، ہر گلی اور ہر محلے میں ایس او پیز کے مطابق بسنت کے جشن کو یقینی بنایا۔ عوام نے بھی بھرپور تعاون کیا اور ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے یہ بات ثابت کر دی کہ خوشی اور احتیاط ایک ساتھ ممکن ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قومی آل راؤنڈر شاداب خان کا بگ بیش لیگ 15 میں ٹیم سڈنی تھنڈر کے لیے باقی میچز نہ کھیلنے کا اعلان
جشن کے دوران ریکارڈ ٹریفک
تین روزہ جشن کے دوران، لاہور میں تقریبا نو لاکھ گاڑیوں کی انٹری ریکارڈ بنی، جبکہ اورنج لائن، میٹروبس، فیڈربس اور دیگر سرکاری بسوں میں دو روز کے دوران تقریباً چودہ لاکھ مسافروں نے سفر کر کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ بسنت کے دوران کھانے پینے کی دکانوں سے لے کر چھتوں تک ہر جگہ خوشیاں بکھری نظر آئیں۔ عوام نے مقررہ حدود کے اندر رہ کر پتنگ بازی کا لطف اٹھایا، ممنوعہ ڈور یا خطرناک اقدامات سے گریز کیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ یہ تہوار نہ صرف خوشیوں بھرا بلکہ محفوظ بھی رہے۔
یہ بھی پڑھیں: گووند نام دیو نے شیوانگی ورما سے رومانوی تعلق پر خاموشی توڑدی
حفاظتی اقدامات اور انتظامات
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اپنی ہدایات میں واضح کیا کہ بسنت عوامی صحت اور سلامتی کے اصولوں کے مطابق منائی جائے اور شہریوں نے اس ہدایت کی مکمل پیروی کی۔ تین روزہ جشن کے دوران انتظامیہ نے بھی بہترین منصوبہ بندی کی۔ ٹریفک کا نظام، پولیس، اسپیشل برانچ اور دیگر حکومتی ادارے اپنی ذمہ داریاں بخوبی انجام دیتے نظر آئے۔ بسنت کے دوران معمولی حادثات ہوئے، لیکن ان کی تعداد گزشتہ سالوں کے مقابلے میں بہت کم رہی۔ یہ سب ممکن ہوا کیونکہ پہلے سے مکمل پلاننگ کی گئی تھی، سیفٹی وائر اور دیگر حفاظتی اقدامات نافذ کیے گئے اور عوام کی تربیت اور شعور نے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں پولیس افسر کے بیٹے نے اپنی ماں بیٹی کو قتل کردیا
ثقافتی جشن کی کامیابی
پہلے دن کی صبح سے ہی لاہور کی فضائیں پتنگوں کی رنگین ڈوروں سے سج گئیں اور ہر چھت پر بچے، خواتین اور مرد حضرات مل کر اس تہوار کی رونق میں اضافہ کرتے رہے۔ پیچ در پیچ پتنگیں اڑیں، ہوا کے جھونکوں پر آنکھ مچولی جاری رہی اور ہر چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔ یہ منظر نہ صرف لاہور کی ثقافتی تاریخ میں یادگار رہا بلکہ آنے والے سالوں کے لیے ایک مثال قائم کی کہ کس طرح ایک تہوار کو محفوظ، خوشگوار اور عوامی سطح پر کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریاض: مختلف وزارتوں کے 358 اہلکار شک کی بنیاد پر زیرِحراست
اقتصادی پہلو
انجمن تاجران کے مطابق بسنت کے اس جشن کے دوران تقریباً 25 ارب روپے کی اقتصادی سرگرمی ہوئی، جس نے مقامی کاروباریوں، ریستورانوں، مارکیٹوں اور تفریحی مراکز کے لیے نئے مواقع فراہم کیے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ خوشی اور ثقافتی تہوار نہ صرف عوامی تفریح کا سبب بنتے ہیں بلکہ معیشت اور کاروباری سرگرمیوں میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔یہ میاں محمد نواز شریف کا ایک ایسا بولڈ سٹیپ ہے جو کہ آنے والے سالوں میں اگر مسلسل جاری رہا تو اس کا کریڈٹ ہمیشہ نواز شریف کے نام جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں شدید سردی، پارہ سنگل ڈیجٹ میں آگیا
سیفٹی کے نئے اقدامات
یہ ثقافتی بحالی ایک بہت بڑا قدم ہے اور اس پر یہ سٹیٹس مین ہی اتنا بولڈ اقدام لے سکتا تھا۔ سابق وزیر اعظم نے اس فیصلے سے یہ بھی دکھایا کہ سیاست میں فیصلے کرتے ہوئے عوام کی خوشی اور ثقافت کو فوقیت دی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ مریم نواز نے اس فیصلے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا، اور ہر چھت، ہر گلی اور ہر محلے میں محفوظ بسنت کے جشن کو ممکن بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: جعلی ڈگری پر امریکا جانے والی خاتون کو 6 سال قید کی سزا
عوامی شعور کا کردار
عوام کی شمولیت اور شعور نے اس تہوار کو کامیاب بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ہر شخص نے ایس او پیز پر عمل کیا، خطرات کو سمجھا اور اپنی ذمہ داری کا احساس کیا، جس کی بدولت بسنت کا یہ تجربہ تاریخی اور یادگار رہا۔
یہ بھی پڑھیں: کار ریسنگ کر کے ویوز حاصل کرنے کا جنون امریکی یوٹیوبر کی جان لے گیا
آنے والے سالوں کی توقعات
اگر یہ کامیاب تجربہ آئندہ سالوں میں بھی برقرار رکھا جائے تو بسنت لاہور میں ہر سال ایک محفوظ، خوشیوں بھرا، منظم اور اقتصادی طور پر مؤثر تہوار بن سکتا ہے۔ نواز شریف کے بولڈ اقدام اور مریم نواز شریف کے انتظامی اقدامات نے یہ ثابت کیا کہ سیاسی بصیرت اور عوامی تعاون کے امتزاج سے ثقافتی جشن کو کامیابی کے ساتھ منایا جا سکتا ہے۔
نوٹ
یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔








