پشاور میں ایپکس کمیٹی کا خصوصی اجلاس
خصوصی اجلاس کی اہمیت
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پشاور میں صوبائی ایپکس کمیٹی کا خصوصی اجلاس ہوا۔ یہ اجلاس اس بات کا ثبوت ہے کہ وزیراعلیٰ نے ذاتی یا جماعتی سیاست سے اوپر اٹھ کر صوبے کے مفاد کو مقدم رکھا۔ وفاقی وزیر داخلہ، قومی سلامتی کے مشیر اور کور کمانڈر کے ساتھ ایک میز پر بیٹھنا سیاسی بالغ نظری اور ریاستی ذمہ داری کا اظہار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جب تک 26ویں ترمیم آئین کا حصہ ہے ہم اس کے پابند ہیں، یا تو آپ اس سسٹم کو تسلیم کریں یا پھر وکالت چھوڑ دیں، جسٹس جمال مندوخیل کا حامد خان سے مکالمہ
سیکیورٹی اور گورننس کا انضمام
وزیراعلیٰ نے خیبر پختونخوا کے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتے ہوئے سیکیورٹی اور گورننس کو جوڑ کر حل پیش کیا۔ یہ پیشرفت واضح کرتی ہے کہ صوبے کے آئینی حقوق، وسائل اور جائز حصے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، مگر قومی سلامتی پر مکمل یکسوئی ہوگی۔ پی ایس ایل میچز کی میزبانی، امن و اعتماد کی بحالی، معمولاتِ زندگی کی واپسی اور صوبے کے مثبت تشخص کا مضبوط پیغام ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اراکین پارلیمنٹ عوام کے ووٹ سے آتے ہیں، انہیں عوامی مسائل کا علم ہونا چاہیے، جج سپریم کورٹ
ماڈل نافذ کرنے کی عملدرآمد
ذرائع نے بتایا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں صوبائی پولیس و اداروں کے تحت ماڈل نافذ کرنا، سول بالادستی، مقامی گورننس اور پائیدار نظم و نسق کی عملی سمت ہے۔ خیبر، اورکزئی اور کرم تک مرحلہ وار توسیع، متاثرہ اضلاع کے لئے واضح روڈ میپ اور نتیجہ خیز حکمت عملی کی علامت ہے۔ وزیراعلیٰ کی سربراہی میں خصوصی ذیلی کمیٹی ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، شفافیت، اور زمینی سطح پر جوابدہی کو یقینی بنائے گی۔ روزگار، متبادل معاش اور نوجوانوں کی مثبت سمت، شدت پسندی کے خلاف سب سے مؤثر، دیرپا اور سماجی بنیادوں پر حل ہے۔
دہشت گردی کے خلاف اقدامات
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ غیر قانونی سم کارڈز، دھماکہ خیز مواد اور بھتہ خوری کے خلاف مسلسل کریک ڈاؤن، دہشت گردی کی سپلائی لائن توڑنے کا دوٹوک عزم ہے۔ وفاق–صوبہ ہم آہنگی کا یہ ماڈل، دہشت گردی کے خلاف واحد قومی بیانیے کی تشکیل کو مضبوط کرے گا۔ یہ پیغام بھی واضح رہے کہ سیکیورٹی فورسز اور منتخب قیادت، ریاستی مفاد میں مل کر کام کر رہی ہیں، کسی حکومت یا انتظامیہ سے ٹکراؤ نہیں، تعاون اور نتائج ہی مقصد ہیں۔








