پشاور میں ایپکس کمیٹی کا خصوصی اجلاس
خصوصی اجلاس کی اہمیت
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پشاور میں صوبائی ایپکس کمیٹی کا خصوصی اجلاس ہوا۔ یہ اجلاس اس بات کا ثبوت ہے کہ وزیراعلیٰ نے ذاتی یا جماعتی سیاست سے اوپر اٹھ کر صوبے کے مفاد کو مقدم رکھا۔ وفاقی وزیر داخلہ، قومی سلامتی کے مشیر اور کور کمانڈر کے ساتھ ایک میز پر بیٹھنا سیاسی بالغ نظری اور ریاستی ذمہ داری کا اظہار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خواجہ آصف کا بہت احترام ہے لیکن ان کی زبان بھی آگ اگلتی ہے، شیر افضل مروت
سیکیورٹی اور گورننس کا انضمام
وزیراعلیٰ نے خیبر پختونخوا کے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتے ہوئے سیکیورٹی اور گورننس کو جوڑ کر حل پیش کیا۔ یہ پیشرفت واضح کرتی ہے کہ صوبے کے آئینی حقوق، وسائل اور جائز حصے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، مگر قومی سلامتی پر مکمل یکسوئی ہوگی۔ پی ایس ایل میچز کی میزبانی، امن و اعتماد کی بحالی، معمولاتِ زندگی کی واپسی اور صوبے کے مثبت تشخص کا مضبوط پیغام ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ڈاکٹر فرحان ورک نے اسد عمر کو عہدے سے ہٹائے جانے اور سوشل میڈیا مہم کی ساری کہانی شیئر کردی
ماڈل نافذ کرنے کی عملدرآمد
ذرائع نے بتایا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں صوبائی پولیس و اداروں کے تحت ماڈل نافذ کرنا، سول بالادستی، مقامی گورننس اور پائیدار نظم و نسق کی عملی سمت ہے۔ خیبر، اورکزئی اور کرم تک مرحلہ وار توسیع، متاثرہ اضلاع کے لئے واضح روڈ میپ اور نتیجہ خیز حکمت عملی کی علامت ہے۔ وزیراعلیٰ کی سربراہی میں خصوصی ذیلی کمیٹی ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، شفافیت، اور زمینی سطح پر جوابدہی کو یقینی بنائے گی۔ روزگار، متبادل معاش اور نوجوانوں کی مثبت سمت، شدت پسندی کے خلاف سب سے مؤثر، دیرپا اور سماجی بنیادوں پر حل ہے۔
دہشت گردی کے خلاف اقدامات
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ غیر قانونی سم کارڈز، دھماکہ خیز مواد اور بھتہ خوری کے خلاف مسلسل کریک ڈاؤن، دہشت گردی کی سپلائی لائن توڑنے کا دوٹوک عزم ہے۔ وفاق–صوبہ ہم آہنگی کا یہ ماڈل، دہشت گردی کے خلاف واحد قومی بیانیے کی تشکیل کو مضبوط کرے گا۔ یہ پیغام بھی واضح رہے کہ سیکیورٹی فورسز اور منتخب قیادت، ریاستی مفاد میں مل کر کام کر رہی ہیں، کسی حکومت یا انتظامیہ سے ٹکراؤ نہیں، تعاون اور نتائج ہی مقصد ہیں۔








