16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق کیس، 3مارچ تک وفاقی حکومت سے جواب طلب
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق کیس میں 3 مارچ تک وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرداخلہ محسن نقوی سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات، انسداد دہشتگردی سمیت اہم امور پر گفتگو
ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام
سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام سے متعلق پیشرفت رپورٹ بھی طلب کی گئی۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے 2 صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کیا، جس میں وزارت آئی ٹی، پی ٹی اے اور پیمرا کو پیروائز کمنٹس جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں دو لڑکوں نے اپنی دوست کو سالگرہ منانے کے بہانے فلیٹ پر بلا کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا
حکم نامے کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا ریگولیشن، مانیٹرنگ اور پیکا کی حالیہ ترامیم پر عملدرآمد رپورٹ فراہم کریں۔ کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر ریگولیٹری فریم ورک سے متعلق جواب دیں۔ بچوں کی عمر کے جائزہ کے میکنزم کے حوالے سے اقدامات سے بھی آگاہ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور سمیت پنجاب بھر میں سی سی ڈی کے مبینہ مقابلوں میں 480 ملزمان ہلاک
بچوں کا تحفظ
حکم نامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے حوالے سے آئینی مینڈیٹ سے متعلق بھی آگاہ کریں۔ بچوں کو آن لائن نقصانات کے اثرات سے تحفظ فراہم کرنا اہم ہے۔ بغیر ریگولیشن سوشل میڈیا کا استعمال بچوں کے لیے خطرناک ہے۔
عالمی قوانین کا حوالہ
درستگزار کے مطابق کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے دنیا بھر میں قوانین موجود ہیں۔








