16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق کیس، 3مارچ تک وفاقی حکومت سے جواب طلب
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق کیس میں 3 مارچ تک وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: افسران بالا نے غلام مرتضیٰ کو گرفتار کرنے کا حکم دیا، اس پر ہلکا پھلکا تشدد کیا تھا، ایس ایچ او کا اعتراف
ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام
سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام سے متعلق پیشرفت رپورٹ بھی طلب کی گئی۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے 2 صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کیا، جس میں وزارت آئی ٹی، پی ٹی اے اور پیمرا کو پیروائز کمنٹس جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کو اپنی عالمی حیثیت کی کمزوریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ٹرمپ اور مودی کے تعلقات کیسے بگڑے ۔۔۔؟ نیو یارک ٹائمز نے وجوہات بتا دیں
حکم نامے کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا ریگولیشن، مانیٹرنگ اور پیکا کی حالیہ ترامیم پر عملدرآمد رپورٹ فراہم کریں۔ کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر ریگولیٹری فریم ورک سے متعلق جواب دیں۔ بچوں کی عمر کے جائزہ کے میکنزم کے حوالے سے اقدامات سے بھی آگاہ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: علیمہ خان کے انٹرویو پر شان دار گلزار کا سخت ردعمل
بچوں کا تحفظ
حکم نامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے حوالے سے آئینی مینڈیٹ سے متعلق بھی آگاہ کریں۔ بچوں کو آن لائن نقصانات کے اثرات سے تحفظ فراہم کرنا اہم ہے۔ بغیر ریگولیشن سوشل میڈیا کا استعمال بچوں کے لیے خطرناک ہے۔
عالمی قوانین کا حوالہ
درستگزار کے مطابق کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے دنیا بھر میں قوانین موجود ہیں۔








