پابندی کے 42 سال بعد بھی لاکھوں طلباء کے حقوق معطل ہیں
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا مطالبہ
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ): ’’پابندی کے 42 سال بعد بھی لاکھوں طلباء کے حقوق معطل ہیں‘‘۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی طلباء یونینز کے حوالے سے اہم مطالبہ کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں، تھانہ بسیہ خیل کے قریب موٹرسائیکل سوار خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا
طالب علموں کے حقوق کی حالت
تفصیلات کے مطابق، انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی طلباء کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے طلباء یونینز پر عائد پابندی اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مصطفیٰ عامر قتل کیس، ملزم ارمغان نے غیر قانونی کال سینٹر چلانے کے مقدمے سے نام نکالنے کے لیے درخواست عدالت میں جمع کرادی
42 سال بعد کا جائزہ
’’جنگ‘‘ کے مطابق، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ پاکستان میں طلباء یونینز پر پابندی کے 42 سال بعد بھی لاکھوں طلباء کے حقوق معطل ہیں۔ طلباء یونین پر پابندی شہری سیاسی حقوق کے بین الاقوامی کنونشن کے آرٹیکل 21 کی خلاف ورزی ہے۔
آزادی کے حقوق کی خلاف ورزی
پاکستان میں طلباء یونین پر پابندی آزادی تنظیم کے آرٹیکل 22 اور آزادی اظہار کے آرٹیکل 19 کے خلاف ہے۔ طلباء یونینز آزاد اور جامع کیمپس کے لیے ضروری ہیں۔








