وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 47واں اجلاس، عمران خان سے فوری طور پر اہل خانہ اور ڈاکٹرز کی ملاقات کا مطالبہ
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کا صوبائی کابینہ کے اجلاس میں خطاب
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کے 47ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق حقائق چھپانا اور ڈاکٹرز و اہل خانہ سے ملاقات نہ کرانا آئین اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ابھیشک شرما نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں نیا ریکارڈ قائم کر دیا
عمران خان کی میڈیکل رسائی کا مسئلہ
انہوں نے بیان دیا کہ عمران خان کو ڈاکٹرز اور فیملی تک رسائی نہ دینا آئین اور قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اگر عمران خان کا آنکھ کا آپریشن کرنا پڑا تو اس کا مطلب ہے جیل میں غیر انسانی سلوک ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور روس کے درمیان دوستی کے رشتے مزید مضبوط ہوں گے : صدر مملکت
علی زمان پر تشدد کی مذمت
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت عمران خان کے مینڈیٹ سے بنی ہے اور ان کے ساتھ ہونے والے ہر ظلم کی مذمت کرتی ہے۔ صوبائی کابینہ عمران خان سے فوری طور پر اہل خانہ اور ڈاکٹرز کی ملاقات کا مطالبہ کرتی ہے۔ 8 فروری کو ملک بھر میں عوامی احتجاج کامیاب رہا، کراچی میں پی ٹی آئی کے منتخب نمائندوں پر پولیس تشدد جمہوریت پر حملہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس مؤخر، اب کل ہوگا۔
عوامی مسائل حل کرنے کیلئے آن لائن کھلی کچہری
وزیراعلیٰ نے کہا کہ آن لائن کھلی کچہری کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ایک سیشن مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے تمام سیکرٹریز، وزرا، ڈی جیز اور ضلعی انتظامیہ کو ہفتہ وار کھلی کچہری کے انعقاد کی ہدایت کی ہے۔
ترقیاتی منصوبوں پر توجہ
وزیر اعلی کا اے ڈی پی 2025-26 پر کام کی سست روی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسے اسی ماہ فاسٹ ٹریک پر ڈالنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے تمام لوازمات فوری مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف ملنا شروع ہو۔








