وفاقی حکومت کی نئی سولر پالیسی: عوام کو ریلیف دینے کے بجائے معاشی بوجھ
پی ٹی آئی کا نئی سولر پالیسی پر ردعمل
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کا وفاقی حکومت کی نئی سولر پالیسی کے نام پر عوام پر معاشی حملے پہ ردعمل، کہا وفاقی حکومت کی نئی سولر پالیسی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ یہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان پر معاشی بوجھ ڈالنے میں مہارت رکھتی ہے۔ تجزیاتی رپورٹس کے مطابق اس پالیسی کے نتیجے میں عوام پر تقریباً 250 ارب روپے کا اضافی مالی دباؤ پڑے گا، جس کا بوجھ بالآخر عام صارفین ہی اٹھائیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف اس عوام دشمن پالیس کی شدید مذمت کرتی ہے۔
سولر توانائی کے فوائد کا نقصان
پی ٹی آئی کی جانب سے کہا گیا سولر توانائی، جو سستی، صاف اور عوام کو خود کفیل بنانے کا ذریعہ تھی، اسے دانستہ طور پر کمزور کیا جا رہا ہے۔ حکومت ایک طرف سولر بجلی کو کم نرخ پر خریدنے کی تیاری کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف وہی بجلی عوام کو کئی گنا زیادہ قیمت پر فروخت کی جائے گی۔ یہ پالیسی دراصل "سورج کی روشنی" پر ٹیکس لگانے کے مترادف ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عوام کو اپنی چھت پر لگائے گئے سولر پینلز کی سزا دی جا رہی ہے؟ یہ فیصلہ صرف ایک تکنیکی تبدیلی نہیں بلکہ ایک سوچ کا عکاس ہے، جو توانائی کے شعبے میں موجود مہنگے معاہدوں کو بچانے کے لیے عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈالنے سے بھی گریز نہیں کرتی۔ سولر صارفین کو بددل کر کے انہیں دوبارہ مہنگے گرڈ سسٹم پر انحصار کرنے پر مجبور کرنا دراصل توانائی خودمختاری کے خواب کو سبوتاژ کرنا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کا وفاقی حکومت کی نئی سولر پالیسی کے نام پر عوام پر معاشی حملے پہ ردعمل:
وفاقی حکومت کی نئی سولر پالیسی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ یہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان پر معاشی بوجھ ڈالنے میں مہارت رکھتی ہے۔ تجزیاتی رپورٹس کے مطابق اس پالیسی کے نتیجے…
— Sheikh Waqas Akram (@SheikhWaqqas) February 11, 2026








