پارلیمنٹ کو گناہوں کی معافی کا ذریعہ نہ بنائیں، اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی
اسلام آباد میں اپوزیشن لیڈر کی باتیں
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کو گناہوں کی معافی کا ذریعہ نہ بنائیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان جلد دوبارہ دنیا کی 24 ویں معیشت بن کر ابھرے گا: وزیر خارجہ اسحاق ڈار
نواز شریف دور کی تجاویز
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ نواز شریف دور میں مشاہد حسین اور وسیم سجاد کمیٹی نے متفقہ طور پر افغانستان سے پیدا ہونے والے بچوں کو شہریت دینے کی سفارش کی تھی۔ آج ان فیصلوں کی تذلیل کیوں؟
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے کہا اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے دروازے کھلے ہیں لیکن کچھ لو کچھ دو نہیں ہوگا: علی ظفر
افغان مہاجرین کی بے عزتی
جس بے عزتی سے افغانیوں کو نکالا گیا، کیا یہ انسانیت ہے؟ پارلیمنٹ نے جنہیں حقوق دینے کا وعدہ کیا، آج انہیں در بدر کیا جا رہا ہے۔ ترامیم کے ذریعے پارلیمنٹ کے اپنے پر کاٹنا بند کریں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے 10 کرکٹ اور 10 فٹ بال گراونڈز کی نیلامی روک دی
آئین اور جمہوریت کی اہمیت
آئین مقدس ہے اور اس کی طاقت کا سرچشمہ صرف عوام کی منتخب کردہ یہ پارلیمنٹ ہونی چاہیے۔ ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے کے بجائے جمہوریت اور آئین کا راستہ اختیار کیا جائے۔ ہر وہ شخص جو آئین کا احترام کرتا ہے، وہ اس ملک کی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔
اقوال کا خلاصہ
پارلیمنٹ کو گناہوں کی معافی کا ذریعہ نہ بنائیں!
نواز شریف دور میں مشاہد حسین اور وسیم سجاد کمیٹی نے متفقہ طور پر افغانستان سے پیدا ہونے والے بچوں کو شہریت دینے کی سفارش کی تھی۔ آج ان فیصلوں کی تذلیل کیوں؟
جس بے عزتی سے افغانوں کو نکالا گیا کیا یہ انسانیت ہے؟ پارلیمنٹ نے… pic.twitter.com/97YrMHenlg— Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan (@TTAP_OFFICIAL) February 11, 2026








