پارلیمنٹ کو گناہوں کی معافی کا ذریعہ نہ بنائیں، اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی
اسلام آباد میں اپوزیشن لیڈر کی باتیں
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کو گناہوں کی معافی کا ذریعہ نہ بنائیں۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف مشن کا دورہ پاکستان طے، اقتصادی جائزے کے بعد نئی قسط ملنے کا امکان
نواز شریف دور کی تجاویز
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ نواز شریف دور میں مشاہد حسین اور وسیم سجاد کمیٹی نے متفقہ طور پر افغانستان سے پیدا ہونے والے بچوں کو شہریت دینے کی سفارش کی تھی۔ آج ان فیصلوں کی تذلیل کیوں؟
یہ بھی پڑھیں: سعودی ولی عہد کا بارسلونا فٹبال کلب خریدنے پر غور
افغان مہاجرین کی بے عزتی
جس بے عزتی سے افغانیوں کو نکالا گیا، کیا یہ انسانیت ہے؟ پارلیمنٹ نے جنہیں حقوق دینے کا وعدہ کیا، آج انہیں در بدر کیا جا رہا ہے۔ ترامیم کے ذریعے پارلیمنٹ کے اپنے پر کاٹنا بند کریں۔
یہ بھی پڑھیں: چینی قوم کی نشاۃ ثانیہ کو روکا نہیں جا سکتا، چینی صدر
آئین اور جمہوریت کی اہمیت
آئین مقدس ہے اور اس کی طاقت کا سرچشمہ صرف عوام کی منتخب کردہ یہ پارلیمنٹ ہونی چاہیے۔ ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے کے بجائے جمہوریت اور آئین کا راستہ اختیار کیا جائے۔ ہر وہ شخص جو آئین کا احترام کرتا ہے، وہ اس ملک کی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔
اقوال کا خلاصہ
پارلیمنٹ کو گناہوں کی معافی کا ذریعہ نہ بنائیں!
نواز شریف دور میں مشاہد حسین اور وسیم سجاد کمیٹی نے متفقہ طور پر افغانستان سے پیدا ہونے والے بچوں کو شہریت دینے کی سفارش کی تھی۔ آج ان فیصلوں کی تذلیل کیوں؟
جس بے عزتی سے افغانوں کو نکالا گیا کیا یہ انسانیت ہے؟ پارلیمنٹ نے… pic.twitter.com/97YrMHenlg— Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan (@TTAP_OFFICIAL) February 11, 2026








