ریاست کی طرف سے ڈائیلاگ کیلئے تیار ہوں، آئیں الیکشن اصلاحات، فنڈز کی تقسیم پر بات کریں: وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ’’پیشکش ‘‘
وزیر اعلیٰ بلوچستان کا ریاست کی طرف سے ڈائیلاگ کی تیاری کا اعلان
کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ میں ریاست کی طرف سے ڈائیلاگ کرنے کے لئے تیار ہوں۔ آئیں الیکشن اصلاحات اور فنڈز کی تقسیم پر بات کریں۔
یہ بھی پڑھیں: تاجی کھوکھر مرحوم کے صاحبزادے فرخ کھوکھر کا جمعیت علمائے اسلام ف میں شمولیت کا فیصلہ
گزشتہ 30 سال کا پروپیگنڈا
بلوچستان اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ 30 سال سے ریاست کے خلاف منظم انداز میں پروپیگنڈا کیا گیا۔ دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی سیاسی مذاکرات سے انکار نہیں کیا۔ آئیں الیکشن اصلاحات اور فنڈ کی تقسیم پر بات کریں۔ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جانیں قربان کی ہیں، کسی کو حق نہیں کہ بندوق اٹھائے اور قتل و غارت شروع کر دے۔ غیر متوازن ترقی کو دہشت گردی کے ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا اور اسمگلنگ کو کاروبار نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 4 خوارج ہلاک
دھاندلی کے الزامات اور مذاکرات کی ضرورت
''جنگ'' کے مطابق، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ الیکشن لڑ کر آیا ہوں، پھر بھی مجھ پر دھاندلی کا الزام لگایا جاتا ہے۔ فساد اور انتشار چھوڑیں، آئیں مذاکرات کریں۔ حقوق، نوکری اور بے روزگاری کو ایشو بنا کر دہشت گردی کی جاتی ہے۔ شہریوں کے حقوق ملنے چاہئیں، مگر پہلے مسئلے کی تشخیص تو کرنی چاہیے۔ خوارج کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں، وہ مذہب کا نام استعمال کرتے ہیں۔ گوادر میں 3 خواتین، 2 بچوں اور 2 مردوں کو گولیوں سے چھلنی کیا گیا۔ دہشت گرد بلوچ بیانیہ بنا کر ملک توڑنا چاہتے ہیں، اور یہ بات سمجھنی ہوگی کہ دہشت گردی کو محرومی سے کیسے جوڑا جا سکتا ہے۔ دہشت گردی تو تمام صوبوں میں ہے۔
افغانستان میں دہشت گردی کا سلسلہ
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ افغانستان میں بی ایل اے کی بنیادیں رکھی گئیں اور ریاست کے خلاف غلط پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ افغانستان سے سی ون تھرٹی پر کون مرغے لے کر آیا تھا؟








